کیپس اور پنجاب یونیورسٹی میں ٹیچرز کی جانب سے بھی ہراساں کیے جانے کا انکشاف

ایل جی ایس کے بعد طالبات نے کیپس اور پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانے والے ٹیچر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا انکشاف کر دیا

کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک مہم چلی جس میں لاہور کے نامور تعلیمی ادارے لاہور گرامر سکول میں اے لیول کی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف آواز اٹھائی گئی.اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ سکول میں بچیوں کو ہراساں کرنے والے تمام 5 اساتذہ کو سکول سے نکال دیا گیا، جن میں سے ایک مشہور فنکار عمیر رانا بھی تھے.

اب ایک نامور استاد عرفان بابو جو کہ انگریزی پڑھانے کیلئے مشہور ہیں کے خلاف الزامات کا نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہے. عرفان بابو تقریباً ایک دہائی سے کیپس میں درس و تدریس کررہے ہیں اور اب وہ پنجاب یونیورسٹی میں بھی پڑھاتے ہیں.

اب عرفان بابو کے طلبا میں سے ایک طالبہ نے ان پر الزامات کا آغاز کیا کہ وہ طالبات کو ہراساں کرتے اور اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

طالبہ نے عرفان بابو کے اوچھے ہتھکنڈوں جن کے ذریعے وہ طالبات کو اپنے قریب ہونے پر مجبور کرتے ہیں کو بے نقاب کیا ہے.

 

عرفان بابو کے خلاف سامنے آنے والی ایک پوسٹ جو کہ "انسائیڈ انسٹی ٹیوشن” نامی اکاؤنٹ سے کی گئی تھی وہ وائرل ہو رہی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ عرفان بابو جو کہ اب خود کو پنجاب یونیورسٹی کا ٹیچر بھی کہتے ہیں وہ6 سے7 سال تک کیپس میں پڑھاتے رہے ہیں.

       

ان کے رویے اور گفتگو سے متعلق متعدد طالبات نے کیپس انتظامیہ کو شکایت کی مگر عرفان بابو کو ابھی تک نہیں ہٹایا جا سکا، اور عرفان بابو کو کیپس میں سب کچھ کرنے کی آزادی دی گئی ہے.

ایک طالبہ نے لکھا کہ جب وہ اپنے ایم کیٹ کی تیاری کے لئے کیپس گئی تو اسے بھی عرفان بابو کی جانب سے ہراساں کیا گیا، اس طالبہ نے مزید لکھا کہ ایسی صورتحال میں نہ صرف ہراساں کرنے والوں کو بلکہ ان اداروں کو بھی شرمندہ ہونا چاہیئے جو ایسے لوگوں کو یہ مواقع فراہم کرتے ہیں.

عرفان بابو کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے ثبوتوں کے ساتھ لوگوں نے سکرین شارٹس بھی لگانا شروع کر دیئے اور بڑی تعداد میں طالبات نے ان کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنے کا بتایا۔

عرفان بابو کو ان سکرین شارٹس میں طالبات سے باہر اکیلے ملنے اور اپنی تصاویر بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اب اس مہم میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے زیادہ سے زیادہ لوگ عرفان بابو کے خلاف جو لوگ متاثر ہیں آواز اٹھائیں تاکہ ان تعلیمی اداروں کو ان جیسے بھیڑیوں سے پاک کیا جا سکے۔

  • Well you can see in the post "after not getting attention from him” women are attention seekers, attention is their oxygen and they crave for it, listen all female Me2 brigade if you did not get your required numbers or the other "bitch” which you are jealous off got more appreciation and marks than you then the teacher get labeled "pervert”. take a close look into their chat they chatted happily and to take revenge they lured guys (teachers) and then blackmail. somebody should stop all these "damaged goods” from making teachers lives miserable. Be honest and never ever share private conversation on social media, I live overseas and here the young men hate long term relationship some even refuse to work with too many females in job places, all the good men had gone red pilled, feminism is the most lethal thing for women itself

  • Asking for picture is may be the teacher want to recognise you after all he/she is dealing with thousand of students, and after 5 pm why you start chatting or calling teachers in the first place, Love, romance, attention, beauty this is all our females brain are filled with. if a teacher say or do something which you think is harassment file a complaint but better still inform the teacher that you took it as harassment or you are uncomfortable with it, one post in media and the teacher life is wrecked. Please be sensible

  • Teacher asking a female student why you did not attend or inform of you not attending the class IS HARASSMENT- ???? – I WAS ASSIGNED ONE LADY ASSISTANT I POLITELY REFUSED, THEY THINK AND ACT DIFFERENTLY AND ALWAYS CREATE PROBLEMS, PLEASE THROW AWAY YOUR BIG GIRLS PANTIES AND BEHAVE AND ACT LIKE A DECENT MATURE AND CONFIDENT PERSON

     


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >