پاکستان میں کمرشل پائلٹ کیسے بنتے ہیں؟

ایوی ایشن کی صنعت میں بطور پائلٹ اپنا کیریئر شروع کرنے کی خواہش رکھنے والے کسی بھی نوجوان مرد و عورت کوانٹرمیڈیٹ کے بعد سول ایوی ایشن کا وضع کردہ میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے۔ طبّی معائنہ پاس کرنے کے بعد وہ نوجوان فلائنگ سکول میں داخلہ لینے کے قابل ہوتا ہے۔

پائلٹ کو ایوی ایشن سے متعلق بنیادی تعلیم کلاس رومز میں دی جاتی ہے۔ جس میں تکنیکی کے علاوہ سیفٹی اور ایوی ایشن قوانین شامل ہوتے ہیں۔ 3 ماہ کی تربیت اور 3 گھنٹے فلائنگ کے بعد پہلا لائسنس مل جاتا ہے جس کو سٹوڈنٹ پائلٹ لائسنس یا SPL کہا جاتا ہے۔

اس لائسنس کو حاصل کرنے کے بعد مزید پڑھائی اور 40 گھنٹے پرواز مکمل کرنے پر وہ پرائیویٹ پائلٹ لائسنس یا PPL کا اہل ہوجاتا ہے۔ جس کے بعد 200 گھنٹے کی پرواز مکمل کرنے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کمرشل پائلٹ لائسنس یا CPL جاری کرتی ہے۔

CPL کے اجرا کے لیے پائلٹ کو 8 تحریری امتحانات بھی دینا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسٹرومنٹ ریٹنگ کا عملی امتحان ہوتا ہے۔ اس امتحان کے پاس کرنے کے بعد نوجوان لڑکا یا لڑکی CPL لائسنس حاصل کر لیتے ہیں اور کسی بھی ایئر لائن میں بطور کیڈٹ پائلٹ ملازمت کرسکتے ہیں۔

CPLکے ساتھ پائلٹس سنگل انجن ایئر کرافٹ کو اکیلے اُڑا سکتے ہیں، مگر 2 انجن والے طیارے یا 6500 کلو گرام سے وزنی طیارے میں بطور معاون پائلٹ کے کام کر سکتے ہیں۔

پی آئی اے میں کیڈٹ پائلٹ کو بنیادی تربیت دینے کے بعد سب سے پہلے اے ٹی آر طیارے پر فرسٹ آفیسر تعینات کیا جاتا ہے اور وہ طیارے کی دائیں والی نشست جو فرسٹ آفیسر کے لیے مختص ہوتی ہے، وہاں سے جہاز کو آپریٹ کرتا ہے۔ اے ٹی آر سے ایئر بس 320 اور پھر بوئنگ 777 طیاروں پر فرسٹ آفیسر تعینات کیا جاتا ہے۔

فرسٹ آفیسر سول ایوی ایشن کے قوانین کے مطابق پائلٹ تقریباً 16سے 18سال تک بطور معاون پائلٹ پرواز کرتے ہوئے اپنے گھنٹے مکمل کرلیتا ہے اور یوں وہ کپتان بننے کے لیے تحریری امتحان دینے کا اہل ہوجاتا ہے۔

اے ٹی آر طیارے پر 50 گھنٹے کمانڈ پائلٹ کی تربیت کے بعد سول ایوی ایشن پائلٹ کو ایئر لائن ٹرانسپورٹ لائسنس یعنی ATPL جاری کردیتی ہے اور یہی وہ لائسنس ہے جس کے بارے میں وفاقی وزیر شہری ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ یہ لائسنس جعلی ہیں۔

پائلٹس کی تربیت

پاکستان میں پائلٹس کی تربیت کے لیے کوئی مقامی نصاب موجود نہیں، قیام پاکستان کے بعد پائلٹس کی تربیت کے لیے امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے مرتب کردہ کورس کو اپنایا گیا تھا، جس کی بنیاد پر پورا تربیتی نظام مرتب کیا گیا۔

2009 تک یہی کورس نافذ رہا اور اس کے تحریری امتحانات سول ایوی ایشن میں ہوتے تھے۔ پائلٹس کو یہ پرچے کاغذ پر حل کرنا ہوتے تھے جس کا نتیجہ ایک ہفتے میں ملتا۔ اگر پائلٹ 70 فیصد تک نمبر لینے میں کامیاب ہوجائے تو اس کو پاس قرار دیا جاتا ہے جبکہ فیل ہونے کی صورت میں مزید ایک ماہ پڑھائی کے لیے دیا جاتا۔

2010 سے سول ایوی ایشن نے نہ صرف پائلٹس کی تربیت کے لیے بنیادی کورس میں تبدیلی کی بلکہ یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی کا تیار کردہ کورس متعارف کروا دیا اور امتحانات کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے ساتھ ساتھ سوالات کا مجموعہ فراہم کردیا جس میں تقریباً 30 ہزارسوالات موجود ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >