ایم این ایز فیس شیلڈز پہن کر اجلاس میں کیوں شریک ہوئے؟ شیریں رحمان نے وجہ بتا دی

پیپلزپارٹی کے ایم این ایز فیس شیلڈز پہن کر قومی اسمبلی کےاجلاس میں کیوں شریک ہوئے؟ شیریں رحمان نے وجہ بتادی

ایک سوشل میڈیا صارف نے سوال کیا کہ پیپلزپارٹی کے ایم این ایز بجٹ اجلاس میں فیس ماسک پہن کر کیوں شریک ہوئے؟ جبکہ فیس شیلڈز صرف میڈیکل اور پیرامیڈیکل سٹاف کیلئے تھیں جو آئسولیشن وارڈز میں کام کرتے ہیں۔۔ پیپلزپارٹی نے پی پی ایز کا غلط استعمال کیا ہے۔

اس پر شیری رحمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ممبران کو بتایا گیا تھا کہ ووٹنگ والے دن  حکومتی بنچز سے 3 ایسے ممبران شریک ہورہے ہیں جن کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

 

شیری رحمان نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کی عمارت کو سیکیورٹی کے پیش نظر ائیرٹائٹ سیل کردیا گیا تھا، کسی قسم کی ونٹی لیشن نہیں تھی جس کی وجہ سے ممبران کو کرونا انفیکشن  کا امکان تھا، پارلیمنٹ ڈسپنسری کا سٹاف بھی کرونا سے انفیکٹڈ تھا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے سوال کیا کہ غریب پاکستانی تو اتنے مہنگے سیفٹی پراڈکٹس افورڈ نہیں کرسکتے تو ان پراڈکٹس کی عوام کے ٹیکس کے پیسوں  سے ممبران پارلیمنٹ کو کیوں رسائی ہے؟

جس پر شیری رحمان نے دعویٰ کیا کہ یہ پراڈکٹس قومی خزانے سے نہیں خریدے گئے۔

 

لیکن سوشل میڈیا صارفین شیری رحمان کے جواب سے مطمئن نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو سندھ حکومت یہ شور مچارہی ہے کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان نہیں مل رہا دوسری طرف خود یہ مہنگا سامان استعمال کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ فیس شیلڈ صرف پیپلزپارٹی کے ہی ایم این ایز نے کیوں پہنیں؟ تحریک انصاف، ن لیگ، ق لیگ اور دیگر جماعتوں نے ممبران نے کیوں پہنیں؟

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے وقت تحریک انصاف کے 8 ایسے ارکان غیر حاضر تھے جن میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔   شہباز شریف بھی کرونا کی وجہ سے غیر حاضر تھے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فیس شیلڈز صرف پیپلزپارٹی کے ایم این ایز نے استعمال کی تھیں، تحریک انصاف، ن لیگ، ق لیگ، ایم کیوایم اور دیگر جماعتوں کے ممبران  نے عام ماسک یا این 95 ماسک پہن رکھے تھے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >