پشاور : کورونا کے علاج کیلئے مختص وارڈ کے وہ مناظر جو پہلے آپ نے نہیں دیکھے

کورونا کے مریضوں کا جہاں علاج کیا جاتا ہے وہاں سہولیات کیسی ہیں، کورونا کے علاج کیلئے مختص وارڈ کے وہ مناظر جو پہلے آپ نے نہیں دیکھے

ہمارے ملک میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد بڑا چیلنج اس کا علاج اور اس سے بچاؤ کا طریقہ کار وضع کرنے کا تھا۔ ہمارے معاشرے کے زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں آ سکتی۔

اس طرح کے رویے کے ساتھ وبا کو شکست دینا بہت مشکل تھا مگر ہمارے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے بہت محنت اور جانفشانی سے اس وبا کا مقابلہ کیا جس کے باعث اب تک 2 لاکھ 25 ہزار 200 سے زائد کیسز میں سے ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد لوگ اس وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے پشاور بیورو کے ایک رپورٹر اور کیمرہ مین کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور خوش قمستی سے وہ اس کو ہرانے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد انہوں نے کورونا وارڈ میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی حوصلہ افزائی اور متاثرہ لوگوں کی تسلی کے لیے ان وارڈز کے اندرونی مناظر دکھانے کی اجازت لی اور یہ مناظر ناظرین تک پہنچائے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بھی کورونا کے لیے مختص وارڈ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جیسا کے گرین زون اور ریڈ زون۔ ریڈ زون میں جانے کے لیے پی پی ای پہننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے بعد آئی سی یو کے اندرونی مناظر دکھائے گئے جہاں مریضوں کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے، ایک مریض کے ساتھ موجود جوان نے بتایا کہ اس کے والد کا علاج چل رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ہسپتال آنے سے پہلے طرح طرح کی باتیں سنتے تھے کہ طرح طرح کے انجکشن لگائے جاتے ہیں مگر ایسا کچھ بھی نہیں۔

اس نوجوان کے مطابق اس کے والد9 روز سے زیر علاج ہیں جس کے بعد ان کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر ہے

۔ڈاکٹرز نے بتایا کہ وہ وہاں دن رات مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں پیرا میڈیکل سٹاف بھی 12، 12 گھنٹے کی شفٹس میں کام کر رہا ہے اور مریضوں اور ان کے لواحقین کو حتی الامکان وائرس سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وارڈ میں موجود خاتون ڈاکٹر نے کہا کہ ان کو شروع کے دنوں میں اس وارڈ میں کام کرنے سے ڈر لگتا تھا مگر اب کیونکہ لوگ تندرست ہو کر واپس لوٹ رہے ہیں اس لیے اب ان کو یہاں آنے سے ڈر نہیں لگتا۔

نجی ٹی وی کے صحافی نے ڈاکٹرز کو قوم کی جانب سے خراج تحسین بھی پیش کیا اور ان کی ہمت کی داد دی کہ کس طرح وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >