کراچی: اسٹاک ایکسچینج حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی 4 لوگوں کے نام رہی

کراچی: اسٹاک ایکسچینج حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی 4 لوگوں کے نام رہی۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں، موصولہ تفصیلات کے مطابق گاڑی 2013 میں خریدی گئی اور اب تک چار مالکان کے نام رہ چکی ہے ۔

حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی پہلے مالک کے نام 30 ستمبر 2013 کو ہوئی تھی، یہی گاڑی 28 دسمبر 2016 کو نجی بینک کے نام پر منتقل ہو گئی۔

دہشتگردوں کی جانب سے حملے میں استعمال کی گئی یہی گاڑی رواں سال جون تک تیسرے مالک کے نام پر رہی، 25 جون 2020 کو ایک دہشت گرد نے یہ گاڑی اپنے نام پر ٹرانسفر کروا لی، 31 دسمبر 2020 تک کے اس گاڑی کے تمام ٹیکسیز بھی کلیئر کر دیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے حملے میں استعمال کی جانے والی گاڑی اتفاقا جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈراما سیریل دیوانگی کی یکم جولائی 2020 کو نشر ہونے والی قسط نمبر 33 میں نظر آئی تھی، جس میں ڈرامے کے دو کردار پارکنگ ایریا میں گفتگو کرتے ہوئے جا رہے ہیں اور اس گاڑی کے قریب سے گزرتے ہیں جو دہشت گردوں ہونے حملے میں استعمال کی۔

جیو انٹرٹینمنٹ کی انتظامیہ نے تحقیقاتی اداروں کی مدد کے لیے ڈرامے کی مذکورہ قسط جو 30 اگست 2019 کو ہل پارک میں شوٹ کی گئی تھی ان کے حوالے کر دی ہے اور قسط کی شوٹنگ کے حوالے سے بھی تمام تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔

سکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کی ابتدائی تفتیش سے یہ معلوم ہوا ہے کہ 29 جون کو پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی حملے سے پانچ روز قبل 24 جون کو کراچی کے علاقے سبزی منڈی میں واقع ایک شوروم سے خریدی گئی تھی، جس پر دہشت گرد سوار ہو کر اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے لیے پہنچے تھے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >