”بین الاقوامی ایرلائنز سے وابستہ پاکستانیوں سےمتعلق خطوط موصول ہوئےہیں“

بین الاقوامی ایئر لائنز میں کام کرنے والے پاکستانی افراد کے بارے میں خطوط موصول، تفتیش جاری، وزیر ہوا بازی

وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان کا اسلام آباد کے سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران 262 مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹ کے سامنے آنے کے پر ان کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ایئر لائنز میں کام کرنے والے پاکستانی افراد کے بارے میں بھی خطوط موصول ہوئے ہیں جن پر تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں عرب امارات کی ایئر لائنز کی جانب سے اس میں کام کرنے والے پاکستانی افراد کی فہرست موصول ہوئی ہے، تاہم انہیں ملیشیا کی جانب سے اس حوالے سے کوئی فہرست موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے مقابلے میں بھارتی معیشت بہت بڑی ہے، لیکن آج کے دور میں اگر بھارت کی معیشت کا موازنہ پاکستانی معیشت سے کیا جائے تو پاکستان کی معیشت بھارت سے کئی گنا بہتر ہے، کرونا وائرس کی وبا کے بعد سے شروع کیا جانے والا احساس پروگرام ہی دیکھ لیں جو کامیابی کے ساتھ بہتر انداز میں چل رہا ہے۔

خصوصی پروازوں کے آپریشن پر بات کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ فلائٹس آپریشن تاحال معطل ہے لیکن ہماری خصوصی پرواز ہے چل رہی ہیں اور انہیں اڑانے کے لئے اجازت صرف انہی لوگوں کو دی جائے گی جن کے لائسنس کلیئر ہوں گے، جن لوگوں کی جانب سے اداروں کو تباہ کیا گیا ہے میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ 2018 کے بعد پی آئی اے کا خسارہ کم ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے نے اپنے بیڑے میں 2006 سے کوئی جہاز خرید کر اضافہ نہیں کیا، ہمارے پاس بہترین پائلٹ موجود ہیں، کراچی طیارہ حادثے میں جان سے ہاتھ دھونے والا پائلٹ بھی چلی نہیں تھا، ہماری اولین ترجیح لوگوں کی زندگی بچانا ہے، اگر کسی فرد کی جگہ پر کسی اور نے پیپر دیا ہے تو وہ بھی نہیں بچ پائے گا، سول ایوی ایشن کے 5افراد کو معطل کرنے کے بعد ان کا کیس ایف آئی اے کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایئر لائنز کے مقابلے میں کرونا وائرس کی وبا کے بعد سے کسی ورکر کو نہیں نکالا گیا جبکہ ہم اس وقت خسارے میں جا رہے ہیں، جب ہم حکومت میں آئے تو چار بلین روپے کے خسارہ کا سامنا تھا، جسے ہم نے کم کیا یے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا منصوبہ ہے کہ پی آئی اے کو واپس سنہری دور میں لے جانا ہے۔ ہمارے دائیں بائیں چور ہوگا تو وہ بھی جائے گا، ہم نے نئے اے 320 جہاز لئے جو اپریل میں آنا تھا، سول ایوی ایشن کو اب تک 20 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، نئی ایرلائن سیال لائسنس لے چکی ہےجو سیالکوٹ چیمبر نے لیا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>