لاہور میں 14 سالہ بچے کا قتل، مقدمے کا مدعی خالو ملزم نکلا

لاہور میں 14 سالہ بچے کا قتل، مقدمے کا مدعی خالو ملزم نکلا

لاہور میں مکان ہتھیانے کیلئے معصوم کی جان لے لی گئی،جس کا مجرم کوئی اور نہیں بلکہ قتل کا مقدمہ درج کروانے والا مدعی نکلا۔پولیس کے مطابق بچے کے قتل کی تفتیش کے دوران مقدمے کے مدعی نے حکام کے سامنے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

چند روز قبل لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں محمد سلیم نامی شخص کے گھر ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکو گھر میں موجود نقدی اور دیگر قیمتی سامان لے جانے کے ساتھ ساتھ ان کے 14 سالہ بیٹے نبیل کو بھی قتل کر گئے تھے۔مقدمے کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس ڈکیتی کا اصل مقصد بچے کا قتل ہی تھا۔

والد محمد سلیم نے بتایا کہ وہ ان کی اہلیہ کام کرتے ہیں جسکی وجہ سے وہ گھر پر موجود نہیں تھے اہل محلہ نے بیٹے کے قتل کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکو نے آٹھ سال کی بیٹی کو باہر کھیلنے بھیج دیا،کچھ دیر بعد جب گھر آئی تو بھائی کی لاش دیکھ کر محلے والوں کو بتایا۔

ہم گھر پہنچے تو بیٹی نے بتایا کہ بھائی اوپر طوطے دیکھنے گئے تھے۔اوپر جا کر دیکھا تو میرے بیٹا کا گلا کٹا ہوا تھا اور اس کے منہ اور آنکھ کے نیچے بھی چھریوں کے نشان تھے۔ میں اور میری بیوی یہ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے۔پولیس نے گھر کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ گھر میں ڈکیتی ہوئی ہے اور ڈاکو نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے ہیں۔

محمد سلیم کے مطابق مقدمہ کا مدعی بننے کے لیے بچوں کے خالو نے خود کو آگے کردیا۔پولیس نے پوچھا کہ کون ہے بچے کا باپ، تو میرے ہم زلف نے خالو کے بجائے خود کو بچے کا ماموں بتایا اور کہا کہ آپ میری مدعیت میں مقدمہ درج کریں کیونکہ اس بچے کا باپ بہت بیمار ہے اور چل بھی نہیں سکتا۔

محمد سلیم کا کہنا تھا کہ گھر میں جب ڈکیتی ہوئی تو دو سے ڈیڑھ لاکھ روپے رکھے ہوئے تھے جس کا علم صرف ہم دونوں میاں بیوی اور ملزم کو تھا کیونکہ وہ ہمارا بہت قریبی تھا اور ہم اس سے اپنے گھر کی ہر بات کرتے تھے۔

تفتیشی افسر محمد مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو گھر کی چھت پر بچے کی لاش پڑی تھی۔ ابتدائی معلومات اکٹھی کرنے کیلئے بچی کا بیان لیا۔بچی ڈری ہوئی تھی اس لیے پہلے اس نے کچھ نہیں بتایا۔ کچھ دیر بعد اس نے بتایا کہ سلیم ہی کا ایک اور رشتہ دار طیب گھر پر آیا تھا۔

بچی نے بیان دیا کہ میں اور بھائی گھر میں تھے تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بھائی نے پوچھا کون ہے۔ تو وہ بندہ بولا کہ طیب ہوں، دروازہ کھو لو۔ جس کے بعد بھائی نے دروازہ کھول دیا۔ جب دروازہ کھولا تو وہ طیب نہیں کوئی اور تھا لیکن میں نے اسے دیکھا ہوا ہے۔

تفتیشی افسر نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل بچوں کا خالو ایف آئی آر میں یہ لکھوا چکا تھا کہ میں اپنی بہن کو ملنے اس کے گھر آیا تو سلمان نامی شخص جو ان کے ہی علاقے کا ہے وہ اوپر چھت پر موجود تھا اور اس نے نبیل کا گلا کاٹا اور جب میں نے اسے دیکھا تو وہ موقع سے فرار ہو گیا

لاہور میں 14 سالہ بچے کا قتل، مقدمے کا مدعی خالو ملزم نکلا

پولیس ریکارڈ چیک کرنے پر یہ بات سامنے آئی کہ سلمان پہلے بھی چوری کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ تفتیشی افسر نے اس کی تصوير لے جا کر بچی کو دکھائی تو اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ وہی شخص ہے جو گھر آیا تھا۔

پولیس نے سلمان کو گرفتار کیا تو مزید تفتیش پر سلمان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس واردات میں اس کے ساتھ طیب اور قیوم (مقتول کا خالو) بھی شامل تھے اور یہ کارروائی مقدمے کے مدعی اور مقتول بچے نبیل کے خالو نے کروائی ہے۔

پولیس نے نبیل کے خالو اور دو قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کر کے ان سے آلہ قتل چھری، پستول اور دو لاکھ روپے نقدی، چیک بُک، پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور ایک ’پیچ کس‘ برآمد کر لیے ہیں۔ تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنی سالی کا دو مرلے کا گھر ہتھیانے کے لیے اس کے بیٹے نبیل کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اورلالچ دے کر اپنے دو قریبی رشتہ دار ساتھیوں کو بھی ساتھ ملا لیا۔

ملزم نے بتایا کہ انھوں نے موقع دیکھ کر طیب اور سلمان کو طوطے خریدنے کے بہانے مقتول نبیل کے گھر بھیجا۔ گھر پہنچنے پر طیب آواز دے کر پیچھے ہٹ گیا اور سلمان قتل کرنے کے لیے اندر چلا گیا۔
جب بچی گھر سے باہر نکلی تو میں اور طیب اندر گئے۔ ہم پیسے اور سامان چوری کر کے فرار ہو گئے۔

تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ جب قیوم نے اعترافِ جرم کیا تو انھوں نے بچے کے والدین کی ان تینوں ملزمان سے ملاقات کروائی۔ قیوم نے اپنی سالی اور ہم زلف کو بتایا کہ اس نے یہ منصوبہ کافی عرصہ پہلے تیار کیا کہ وہ سلیم کے بیٹے کو قتل کرنے کے بعد اپنے بیٹے کی شادی سلیم کی بیٹی سے کر دے گا اور یوں تمام جائیداد خود اس کے پاس آجائے گی۔

بچے کے والد سلیم نے بتایا کہ انہوں نے سوچا تھا جب ان کا بیٹا بڑا ہوگا تو یہ تمام چیزیں بیچ کر وہ یہ پیسے اُس کی پڑھائی پر لگا دیں گے،تاکہ وہ پولیس افسر بن سکے،پولیس نے بتایا کہ ملزمان کے چالان تیار ہونے کے بعد انھیں جلد عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >