کرنل شیر خان شہید کی برسی:بھارتی فوج آج بھی ان کی بہادری کی معترف

دنیا میں ہونے والی جنگوں میں یہ بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ دشمن کی فوج کی جانب سے اپنے حریف کی بہادری کی تعریف کی گئی ہو، 1999 کی کارگل جنگ کے دوران ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب ٹائیگر ہل کے محاذ پر پاکستانی فوج کے کپتان کرنل شیر خان نے اتنی بہادری کے ساتھ جنگ لڑی کہ انڈین فوج ان کی بہادری اور شجاعت کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔

انڈین آرمی کی جانب سے اس لڑائی کی کمانڈ سنبھالنے والے بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ کا انٹرنیشنل خبر رساں ادارے کو بتانا تھا کہ "جب یہ جنگ ختم ہوئی تو میں اس افسر کی بہادری کا قائل ہو چکا تھا۔ میں 71 کی جنگ بھی لڑ چکا ہوں، میں نے کبھی پاکستانی افسر کو ایسے قیادت کرتے نہیں دیکھا جیسے یہ جوان کر رہا تھا، میں نے دیکھا کہ سارے پاکستانی فوجی کرتے اور پاجاموں میں ہیں اور یہ تنہا ٹریک سوٹ میں تھا”۔

انٹرنیشنل خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر باجوہ کا کہنا تھا کہ "کیپٹن شیر خان بہت بہادری سے لڑے، پاکستانی اور ہماری فوج کے جوانوں کے درمیان ہاتھوں سے لڑائی جاری تھی کہ ہمارے ایک جوان کرپال سنگھ جو زخمی پڑا ہوا تھا نے اچانک اٹھ کر 10 گز کے فاصلے سے ایک "برسٹ” مارا جس سے شیر خان بری طرح سے زخمی ہو کر نیچے گر پڑا اور جام شہادت نوش کیا”۔

بریگیڈیئر باجوہ کے مطابق پاکستانی حملے کے بعد ہم نے وہاں 30 پاکستانیوں کی لاشوں کو دفنایا، لیکن میں نے پورٹرز بھیج کر کیپٹن کرنل شیر خان کی لاش کو نیچے منگوایا جسے ہم نے بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں رکھا،جب کیپٹن شیر خان کی لاش واپس کی گئی تو ان کی جیب میں بریگیڈیئر باجوہ نے کاغذ کا ایک پرزہ رکھ دیا تھا جس پر لکھا تھا "12 این ایل آئی کے کپتان کرنل شیر خان انتہائی بہادری اور بے جگری سے لڑے انھیں ان کا حق دیا جانا چاہیے”۔

کارگل کی جنگ پر حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب "کارگل ان ٹولڈ سٹوریز فرام دی وار” کی مصنفہ رچنا بشٹ راوت کا خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ "پاکستانیوں نے ٹائیگر ہل پر پانچ مقامات پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں، پہلے آٹھ سکھ رجمنٹ کو ان پر قبضہ کرنے کا کام دیا گیا لیکن وہ یہ نہیں کر پائے”۔

مصنفہ رچنا بشٹ راوت کے مطابق سکھ رجمنٹ کے ناکام ہونے کے بعد جب 18 گرینیڈیئرز کو سکھ رجمنٹ کے ساتھ لگایا گیا تو وہ کسی طرح اس پوزیشن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن کیپٹن شیر خان نے ایک جوابی حملہ کیا، پہلی بار ناکام ہونے کے بعد انھوں نے اپنے فوجیوں کو دوبارہ تیار کر کے حملہ کیا جس کو خودکش حملہ بھی کہا جاتا ہے۔

مصنفہ رچنا بشٹ راوت نے بتایا کہ اس وقت جو لوگ یہ جنگ دیکھ رہے تھے وہ سب کہہ رہے تھے کہ یہ خودکش حملہ تھا، کیونکہ کیپٹن شیر خان جانتے تھے کہ یہ مشن کامیاب نہیں ہو گا کیونکہ انڈین فوجیوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ تھی، جن سے لڑنا اور جنگ نا ممکن تھا، لیکن کرنل شیر خان آخر تک اپنی آخری سانس تک لڑتا رہا اور لڑتے لڑتے شہادت نوش کر گیا۔

کیپٹن کرنل شیر خان پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے گاؤں نواکلی میں پیدا ہوئے تھے، ان کا نام کرنل شیر خان ان کے دادا نے رکھا تھا، کرنل شیر نے اکتوبر 1992 میں پاکستانی فوجی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی تھی، جہاں ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کو بٹالین کوراٹر ماسٹر کی پوزیشن دی گئی۔

کپیٹن کرنل شیر خان کا تعلق پاکستانی فوج کی سندھ رجمنٹ سے تھا اور کارگل کی لڑائی میں وہ ناردرن لائٹ انفنٹری سے منسلک تھے، دشمن سے لڑتے لڑتے شہادت نوش کرنے والے کیپٹن شیر خان کو پاکستانی فوج کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔

  • Tareef wo jo dushman bhi karay…. by the way humayn bhi dushman ki tareef mayn bukhal say kaam nhi lena chayey aur agar koi kahin deserve kerta hay tou barapan yehi hay k banda uski tareef karay…. ajkal tou kher chinese say thukai ho rehi hay becharon ki…. Modi nay phansa diya hay inhayn…

  • Wow. What a post!

    Chalay jo hogay shahadat ka jaam pee kar tum

    Rasul-e-paak ne baahon mein le liya hoga

    Ali tumhari shahadat pe jhoomtay hon gay

    Hussain paak ne irshaad ye kiya hoga

    Tumhen Khuda ki razaaen salaam kehti hain

     


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >