پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کی خبروں کے پیچھے آخر وجوہات کیا ہیں؟

پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کی خبروں کے پیچھے آخر وجوہات کیا ہیں؟صدیق جان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجنے کا ایک اور پلان منظرعام پر لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس حوالے سے اتنی مضحکہ خیز اور مزاحیہ خبر سامنے آئی ہے کہ لوگوں کے لیے تفریح کا باعث بنے گی، وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجنے کی خبریں مسلسل جنگ کے اخبار میں چھپ رہی ہیں، کیونکہ پاکستانی میڈیا کا "گاڈ فادر” میر شکیل الرحمن نیب کی حراست میں ہے۔

صدیق جان کے مطابق جنگ اور جیو گروپ اپنے بانی میر شکیل الرحمن کو بچانے کے لیے اپنی تمام حدیں پار کرتا جا رہا ہے، جنگ گروپ اپنی حد پار کرتا ہوا پورا زور لگا رہا ہے کہ کسی طرح سے حکومت کو بلیک میل کیا جائے اور حکومت میں عدم استحکام پیدا کیا جائے، جنگ گروپ کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی میر شکیل الرحمان کو چھڑوانے کے لیے صف اول میں کھڑی ہیں کیونکہ ہمیشہ سے دونوں پارٹیوں کو فائدہ دیتے آیا ہے۔

جنگ اخبار نے اپنی غیر سنجیدگی کی انتہا کرتے ہوئے خبر لگائی کہ ” عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک وفاقی وزیر نے ن لیگ کے کسی رہنما کے قریبی رشتہ داروں کو فون کیا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم استحکام کی تحریک لے کر آئیں میں اور تحریک انصاف کے کچھ لوگ آپ کا ساتھ دیں گے، اس حوالے سے حامد میر بھی آپ نے ٹاک شو میں کہہ چکا ہے کہ عمران خان کو ہٹانے کیلئے اپوزیشن کو 13 ووٹ درکار ہیں جبکہ 15 ووٹ ان کے پاس موجود ہیں جن میں سے 13 ایم این اے پاکستان تحریک انصاف کے ہی ہیں۔

صدیق جان نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ یہاں پر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس عمران خان کو ہٹانے کے لیے ووٹ پورے تھے تو وہ بجٹ والے دن کیوں 41 سے 42 ووٹوں سے پیچھے رہ گئے؟ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ جو وزیراعظم ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹ لے کر آیا ہے کیا اسے اپنے عہدے سے ہٹانا اتنا ہی آسان ہے؟ میری نظر میں یہ تمام باتیں مضحکہ خیز ہیں۔

صدیق جان نے بتایا کہ عمران خان کو تب اس کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے جب اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کرے گی کہ اب عمران خان کو ہٹا دینا چاہیے، اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان کو عہدے سے ہٹا سکتی ہے یا نہیں یہ ایک الگ بات ہے لیکن اس حوالے سے سنجیدہ معاملات تب ہوں گے جب اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ کرے گی، تاہم ابھی تک تو ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آرہی البتہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیالی میں طوفان برپا کرنے کی صورتحال نظر آرہی ہے۔

  • no one can even shake a govt in Pakistan unless there is a wink & looking from Imran’s speech in parliment, there is a clear indication that has been more then a wink . now govts paid propagandist like Jaani & Maali are deperately trying to convince Yootias otherwise

  • The government will be changed by illegal means if and only if there is a larger game plan by US in the region, for instance a war. This is an election year in USA and republicans are on shaky ground. The danger to IK will be if GOP wins presidency & congress and then want to go for another adventure in the region.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >