عظمیٰ کاردار سے پنجاب اسمبلی کی سیٹ سے استعفیٰ لینے کی تیاریاں

رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار کی وزیراعظم، خاتون اول اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف آڈیو ٹیپ سامنے آنے کے بعد اب معافی کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ اب عظمیٰ کاردار سے استعفیٰ لینے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

رکن اسمبلی نے وضاحت کیلئے وزیراعظم اوروزیراعلیٰ ہاؤس رابطے کی کوششیں کی، تاہم ان پر پی ایم اور سی ایم ہاؤس کے دروازے بند ہیں لہٰذا معافی کی تمام کوششیں ناکام چلی گئی ہیں۔

پی ٹی آئی قیادت نےعظمیٰ کاردار سے اسمبلی رکنیت سے استعفےکا کہہ دیا ہے۔ اگر رکن اسمبلی نے استعفیٰ نہ دیاتوالیکشن کمیشن کورکنیت کی معطلی کے لیے درخواست کی جائےگی۔

تحریک انصاف کی قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب نے پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار کی بنیادی رکنیت ختم کردی گئی تھی، قائمہ کمیٹی کی جانب سے بنیادی رکنیت ختم کرنے کا تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ رکن اسمبلی کو 15 جون کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس دیا گیا اور انہیں ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

پارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عظمیٰ کاردار نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، اُن کا رویہ نامناسب اور ان کے منصب کے شایان شان نہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا تھا کہ سنگین غلطی کے بعد عظمیٰ کاردار کسی پارلیمانی منصب کی اہل نہیں، وہ 7 روز کے اندر پارٹی ایلیٹ کمیٹی میں فیصلے کو چیلنج کرسکتی ہیں مگر ان کی جانب سے فیصلے کو چیلنج کرنے کی ابھی تک کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔

  • پی ٹی آئی والو ہوش کے ناخن لو تم لوگوں نے  پہلے اسکو پارٹی سے نکالا پھر اب اسمبلی سے نکالنے کی تیاری ہو رہی ہے کیا یہ بہتر نہیں کہ اسکو دنیا سے ہی نکا ل دو کیونکہ جتنا بڑا جرم کیا ہے یہ تو بلفمی ہے اور اس توہین کی سزا موت تو بنتی ہے اتنا بڑا جرم اسکی کم از کم سزا پھا نسی ہونی چاہیے یہ بھی اب خاندانی پارٹی ہوگی کہ اگر تحت پسماندہ گدھے بزدار یا اسکو لانے والوں کو کوئی کچھ کہ دے تو یہ بہت بڑی توہین ہوگی اور اسکی سزا موت سے کم نہیں ہونی چاہیے  میں تو ریکومنڈ کرونگا کہ اس عورت کو پھانسی دو جس نے اتنی بڑی توہین کر دی 

  • جب گلا لائی روزانہ کی بنیاد پر عمران خان پر بھونکتی تھی اور روزانہ پی ٹی آئی کی کسی کتے والے کرتی تھی اس وقت تو کوئی کمیٹی نہیں بنی تھی اسکوڈی  سیٹ کرنے کا سوچ کر ہی  پی ٹی آئی کو شا ید لوز موشن لگ جاتے تھے وہ دراصل عمران پر اتنے غلیظ گھناونے اور شرمناک الزام لگاتی تھی مگر سب بھنگ یا ستو پی کر سوئے ہوۓ تھے لیکن اب تو ایک اسیسی ہستی کی توہین ہو گئی جسکی توہین بلافمی ہے  جمہوریت گئی کسی کے پچھواڑے میں لعنت ایسی سوچ ایسی جمہورت نامی مذاق پر لکونسی آفت ٹوٹ پڑی اگر تاحیات پسماندہ    گدھے اور اسکو مسلط کرنے والوں پی ٹی آئی دشمنوں کو وقت سے پہلے سچ بول کر بےنقاب کر دیا ویسے تو سا ری دنیا کو اور  پی ٹی آئی کو یہ کڑوا سچ معلوم ہے مگر وہ عمران خان کے لحاض میں کچھ بولتے نہیں ہیں لیکن اب عمران کے      بظاہردوست مگر کچھ دشمنوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بن کر عمران خان اور پی ٹی آئی سے دشمنی کی ہے اب بھی موقع ہے سنبھل جا ؤ ورنہ قبرستان بھرے پڑے ہیں ان حرام خور بہروپیوں اور فراڈیوں سے جو اپنے آپ کو بہت برگزیدہ اور بہت اعلی سمجھ کر دوسروں کو نیچے دکھانے یا اپنی  احساس کمتری کی وجہ سے اپنے خلف کچھ بولنے والوں کو اپنی طرف سے عبرت کا نشانہ بنانے کی غلیظ ناپاک اور گھٹیا حرکت کرتے ہیں ، عمران خان کو بھی لوگوں نے بہت کچھ کہا مگر عمران نے انہی لوگوں کو اپنا ساتھ بھی بنایا بجائے ان سے انتقام لینے کے کیوں کہ وہ کسی گھٹیا نیچ اور ذلیل خاندان کا چڑھے وصول کرنے والا ٹکے مار نہیں  


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >