علی زیدی عزیر بلوچ کی اصل جی آئی ٹی رپورٹ سامنے لے آئے، پی پی رہنماؤں کے نام شامل

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی سندھ حکومت کی جانب سے عزیر بلوچ کی جاری کی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کو جعلی قرار دے کر اصل جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر لے آئے، علی زیدی کا عزیر بلوچ کی اصل جی آئی ٹی رپورٹ سامنے لاتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی جے آئی ٹی رپورٹ نا مکمل ہے کیونکہ مکمل رپورٹ میں پی پی کے اہم رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں۔

وفاقی وزیر علی زیدی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کو لے کر بہت سی باتیں کی جا رہی تھیں، آخر کار سندھ حکومت نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کو پبلک کرنے کی ہمت کی لیکن پھر بھی سندھ حکومت نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ مکمل پبلک نہیں کی، کیوں کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں یوسف بلوچ ، شرجیل میمن اور عبدالقادر پٹیل کے نام سرفہرست ہیں۔

پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے علی زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحیح اور غلط کی سیاست کے مقابلے میں دنیا بھر میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست ہوتی ہے، عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں عزیر بلوچ  خود 198 افراد کے قتل کا اعتراف کر چکا ہے، لیکن یہ جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس نے اتنے افراد کے قتل کس کے کہنے پر کیے اور نہ ہی سہولت کار کا نام شامل ہے، عزیر بلوچ نے جس نوعیت کے انکشافات کیے ہیں وہ کوئی عام انکشافات نہیں ہیں۔

علی زیدی کا عزیر بلوچ کی جی آئی ٹی کے حوالے سے کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں اسپیشل برانچ ، سی آئی ڈی، آئی ایس آئی کے افسر، آئی بی ، پاکستان رینجرز،ایم آئی کےافسر تھے، ان تمام افسران کی جانب سے جاری کی گئی اصل جے آئی ٹی رپورٹ 43 صفحات پر مشتمل ہے، میرے پاس عزیر بلوچ کی اصل جی آئی ٹی رپورٹ ہے جس پر چھ دستخط موجود ہیں جو اس کے اصل ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کا 164 کے بیان حلفی میں کہنا تھا کہ میں سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر فریال تالپور اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملا، میرے سر کی قیمت بھی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے کہنے پر ختم کی گئی، عزیر بلوچ نے اپنے بیان حلفی میں بتایا کہ مجھے بیان حلفی دینے کے بعد آصف علی زرداری کی طرف سے انتقامی کارروائی کا خطرہ ہے جس میں وہ مجھے اور میرے گھر والوں کو مار دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میری چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ اس جے آئی ٹی رپورٹ پر ازخود نوٹس لیں اور مجھ سمیت جے آئی ٹی کے ممبران کو عدالت میں طلب کریں، پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے باوجود ایم پی اے ہیں جن کے خلاف جی آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے، قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >