سی ایس ایس پاس کرنا سرکاری تعلیمی اداروں سے پڑھنے والے طلبہ کیلئے ناممکن ہوگیا

سی ایس ایس پاس کرنا سرکاری تعلیمی اداروں سے پڑھنے والے طلبہ کیلئے ناممکن ہوگیا

پاکستان میں مقابلے کا اعلی ترین امتحان سی ایس ایس پاس کرنا سرکاری جامعات سے پڑھنے والے طلبہ و طالبات کیلئے ناممکن ہوگیا ہے، سال 2019 کے سی ایس ایس امتحان میں سر فہرست 100 امیدواروں میں اکثریت کا تعلق غیر ملکی یونیورسٹیوں سے یا نجی جامعات سے تھا۔

سینٹرل سپیریئر سروسز( سی ایس ایس) پاس کرنا نوجوان نسل میں سے اکثریت کا خواب ہوتا ہے، اس امتحان کو پاس کرنے والے خوشحال مستقبل کی ضمانت اور ملک کی خدمت کے جذبے کے تحت جی جان سے اس کیلئے محنت کرتے ہیں، مگر گزشتہ تین سالوں میں سی ایس ایس امتحانات میں پہلی پوزیشن غیر ملکی یونیورسٹیز سے ماسٹرز کرنے والے طلبہ حاصل کررہے ہیں۔

سی ایس ایس پاس کرنا سرکاری تعلیمی اداروں سے پڑھنے والے طلبہ کیلئے ناممکن ہوگیا

گزشتہ برس کے سی ایس ایس امتحانات کو پاس کرنے والے 100 سر فہرست امیدوار یا تو غیر ملکی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں یا وہ مقامی طور پر کسی نجی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، پاکستان میں سی ایس ایس کے امتحانوں میں پاس ہونے والے زیادہ تر طلبہ کا تعلق جارج ٹاؤن یونیورسٹی واشنگٹن، آکسفورڈ یونیورسٹی سے ہے  اور مقامی سطح پر لمز سے گریجوایٹ طلباء بھی ان 100 کامیاب امیدواروں میں شامل ہیں۔

پاکستان کی بڑی سرکاری یونیورسٹیز سے پڑھنے والے طالب علموں کی سی ایس ایس امتحانات میں شامل ہونے کی تعداد بہت زیادہ ہے، مگر پاس ہونے والے امیدواران کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے زیادہ ترامیدوار یا تو پرائیویٹ اور ایلیٹ کلاس سمجھی جانے والی یونیورسٹیز سے تعلق رکھتے ہیں یا بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے گریجوایٹ ہیں۔

ماہر تعلیم رسول بخش رئیس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے یہ مقابلے کے امتحانات صرف بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے پڑھنے والے طالب علم ہی پاس کرتے ہیں، ہاں اکثریت انہی کی ہوتی ہے جو اچھے سکول، کالجز اور اس کے بعد مقامی یا غیر ملکی معیاری تعلیمی اداروں سے گریجوایشن کرتے ہیں، پانچ ، چھ سال پہلے یہ صورتحال مختلف تھی پاس ہونے والے اکثر طالب علموں کا تعلق پاکستانی سرکاری جامعات سے ہوتا تھا، مگر ان چند برسوں میں سرکاری جامعات میں تجربہ کار اور اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کی تعداد ہی کم ہوتی جارہی ہے۔

سی ایس ایس پاس کرنا سرکاری تعلیمی اداروں سے پڑھنے والے طلبہ کیلئے ناممکن ہوگیا

انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیمی ڈگریوں اور اہلیت کو میریٹ نہیں بنایا جاتا جس کا فائدہ نجی جامعات نے اٹھایا اور انہوں نے ان اعلی تعلیم یافتہ اور قابل اساتذہ کو اپنے تعلیمی اداروں میں رکھ کر سرکاری جامعات سے معیار کے اعتبار سے سبقت لے لی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طالب علم مقابلے کے امتحانات میں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر کامیاب ہو جاتے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >