پاکستان میں مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز کی تیاری، غیر ملکی میڈیا بھی معترف

2 روز قبل پاکستانی حکومت کی جانب سے اعلان کی کیا گیا کہ اب پاکستان میں مقامی سطح پر بنے یعنی "میڈ اِن پاکستان” وینٹی لیٹرز کی سہولت بھی موجود ہے، یقیناً یہ خبر بہت بڑی تھی کہ اس پر غیر ملکی میڈیا بھی پاکستانی حکومت کے اس اقدام کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔

وینٹی لیٹرز کی تیاری کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں تیار کردہ وینٹی لیٹرز کی پہلی کھیپ این ڈی ایم اے کے حوالے کی۔ وزیراعظم عمران خان نے این آر ٹی سی ہری پور کا دورہ کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر فواد چودھری اور زبیدہ جلال بھی ہمراہ تھیں، وزیراعظم نے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے وینٹی لیٹرز پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا اور وزیراعظم کو پاکستانی انجینئرز کے تیار کردہ وینٹی لیٹرز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

جبکہ وزیراعظم نے پاکستانی وینٹی لیٹرز کے 15 یونٹس این ڈی ایم اے کے حوالے بھی کیے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز بنانے کے حوالے سے اہم دن ہے، ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا گیا ہے، میڈ اِن پاکستان وینٹی لیٹرز کا پہلا بیج این ڈی ایم اے کے حوالے کر دیا گیا، سیف وینٹ کا پہلا بیج وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے این ڈی ایم اے کے سپرد کیا گیا۔

وزیراعظم نے دیسی ساختہ وینٹی لیٹر تیار کرنے پر این آر ٹی سی اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لئے ایک اہم کامیابی ہے اور پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، ہمارے پاس بہت زیادہ صلاحیت ہے کہ ہم نئی ​​تکنیکی جدت پر خود انحصاری کی طرف جائیں، ہماری حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے کسی بھی اقدام کی بھرپور حمایت کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہماری سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا، اب ہماری توجہ صحت کی جامع اصلاحات پر رہے گی۔

امارات کے خبر رساں ادارے نے کہا کہ اب پاکستانی وینٹی لیٹرز ایک حقیقت بن چکے ہیں، خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستان میں اب 250 سے 300 وینٹی لیٹرز ماہانہ بنانے کی کیپسٹی موجود ہے۔

فواد چودھری کے بیان کو بھی نقل کیا جس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ اس کامیابی کے بعد پاکستان میں الیٹکرو مگنیٹک یعنی طبی آلات بنانے کی صنعت کو دوام ملے گا۔ انہوں نے کہا ہم پاکستان آئندہ 3 سال میں ایک بلین ڈالر کی درآمدات میں کمی کرے گا۔

اس کا مطلب ہے کہ 3 سال کے دوران پاکستان طبی آلات مقامی سطح پر تیار کرنے لگے گا جس کے بعد بیرون ممالک سے امپورٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔

وفاقی وزیر نے مزید بھی کہا کہ 5 سال کے بعد پاکستان کو دوسرے ممالک سے کوئی بھی طبی آلات یا کسی بھی قسم کا سامان بیرون ممالک سے درآمد نہیں کرنا پڑےگا۔

خلیج ٹائمز نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی دن ہے جب یہاں انتہائی اہم طبی آلات کی تیاری شروع ہو چکی ہے جس سے ملکی زرمبادلہ کو فائدہ پہنچے گا اور ملک کو اپنی معاشی صورتحال میں بہتری کیلئے بھی مدد ملے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >