پاکستان میں شجرکاری کی مدد سے زیادہ مقدار اور اچھی نسل کا شہد ملنے لگا

2014 میں شروع ہونے والی شجرکاری کے نتیجے میں چھانگا مانگا کے جنگلات اور ان کے اردگرد رہنے والے شہد کی مکھیاں پالنے والے افراد پہلے کی نسبت 70 فیصد زیادہ شہد نکالنے لگے ہیں۔

پانچ سال قبل حکومت نے پاکستان کے مشرقی علاقوں میں پانی کے انتظام کو بہتر بنا کر جنگلات کو بچانے کے منصوبے کے تحت چھانگا مانگا میں لاکھوں کی تعداد میں درخت لگائے تھے۔

اس منصوبے کے مقصد جنگلات کی زندگی اور جنگلی حیات کا تحفظ تھا جس کو کافی حد تک آبادی اور آگ کی وجہ سے متاثر ہونا پڑا تھا۔

تب لگائے گئے پودے اب تناآور درخت بن چکے ہیں اور اس کی اچھی بات یہ ہے کہ اس علاقے میں شہد بنانے والے لوگوں کے کاروبار میں بہتری آئی ہے۔

لاہور سے کچھ فاصلے پر واقع چھانگا مانگا کا جنگل دنیا میں انسانوں کی مدد سے لگایا جانے والا  بڑا جنگل ہے جو کہ 6 ہزار ایکڑ یعنی 2428 ہیکٹر پر پھیلا ہے جس میں 3 اعشاریہ5 ملین درخت اگائے گئے ہیں۔
اس علاقے میں بڑے پیمانے پر درختوں کی موجودگی سے مختلف قسم کی صنعتیں چل رہی ہیں جن میں لکڑی، ریشم، شہد اور دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ اس علاقے میں شہد بنانے والے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 2014 سے پہلے شہد کی یہ مقدار نہیں ملتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگلات کی اتنی بڑی مقدار میں کاشت کے بعد اس صنعت کو فروغ ملا ہے اور اب وہ شہد بیچ کر کثیر آمدنی کمانے کے قابل ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >