گھریلو تشدد ،ایک خطرہ: شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی صدف زہرہ کی کہانی

صحافی علی سلمان علوی کی اہلیہ جنہیں تشدد کے بعد قتل کردیا۔ وہ خود  گھریلو تشدد کیخلاف آواز اٹھاچکی تھیں، گھریلوتشدد کے خلاف صدف کا آخری ٹویٹ سات جنوری کو سامنے آیا جس میں انہوں نے خواتین پر تشدد کو خطرہ قرار دیا تھا۔ انہوں دیگر ٹوئٹس میں بھی گھریلو تشدد پر بات کی۔

صدف زہرہ نے ٹویٹ میں لکھا کہ گھریلو زیادتی پر قابو پانے ، زبردستی کرنے ، دھمکی دینے ، ہتک آمیز اور پرتشدد سلوک کے واقعات  یہ بہت عام ہے،جس کا خواتین کو زیادہ تر سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک اور ٹویٹ میں صدف نے بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد کی جانب توجہ مبذول کرائی، انہوں نے لکھا کہ بدقسمتی سے ، ان دنوں خواتین کے خلاف گھریلو زیادتی اور تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتنی افسوس کی بات ہے ، جس عورت کی محبت سے شادی ہوجاتی ہے ،لڑکی کا سب سے اچھا دوست جس سے محبت کی خاطر لڑکی اپنے  اپنے خاندان کے خلاف جاکر شادی کرتی ہے۔ اسے بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مارچ میں کئے گئے اپنے ایک اور ٹویٹ میں صدف نے سوال کیا کہ کیا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا اسے آواز دی جاتی ہے؟اسی دن صدر نے بتایا کہ جب سے مجھ میں شعورآیا، تب سے میں گہری نظر سے دیکھ رہی ہوں

کہ ‘صبر’ ، ‘رواداری’ اور  ‘سمجھوتہ’ کے الفاظ صرف اور صرف خواتین کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ہمیں سمجھوتہ کرنے اور اپنے طرز عمل میں لچک پیدا کرنے کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کے بارے میں لیکچر دیئے جاتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کے حالات میں ڈھلنے کا درس دیا جاتا ہےجس کے بعد  ہمیں اپنی پوری زندگی داؤ پر لگانا ہوتی ہے۔

صدف نے لکھا کہ ہمیں ذاتی معاملات (شادی شدہ زندگی سے متعلق) اپنی ذات تک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ، جو ایک اچھا تصور ہے۔ لیکن اگر معاملات بدسلوکی ، تشدد ، لعنت اور زہریلے تعلقات پر مشتمل ہوں تو کیا ہوگا؟ کیا عورت کو ایسی چیزوں کے بارے میں ماں کو بتانا چاہئے؟ اسے کب تک خاموش رہنا چاہئے؟

صدف نے لکھا کہ گھریلو تشدد نجی معاملہ نہیں ہے چاہے یہ گھر کی چار دیواری کے اندر ہوتا ہے یا کھلے میں باہر،لوگوں کو اس کا بتانا چاہئے، برائے مہربانی اگر کچھ اور نہیں تو وہ کچھ شرم محسوس کریں گے!

صدف نے کہا تھا کہ وہ عورت مارچ اور اس کے نظریئے کے حق میں بالکل نہیں لیکن اب مجھے اپنے لئے، اپنی بیٹی کے لئے ، آئندہ نسلوں کے لئے مارچ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ٹھیک ہے اگر کچھ خواتین عورت مارچ 2020 کا حصہ نہیں بننا چاہتی ہیں ، لیکن براہ کرم ہمارے حقوق کے لئے مارچ کرنے والوں کو بے جا نہ سمجھیں۔

خواتین کے حقوق اور ان پر تشدد کیخلاف آواز اٹھانے والی صدف زہرہ خود کو اس تشدد سے نہ بچاسکی۔ صحافی علی سلمان علوی کو اپنی اہلیہ صدف زہرہ پر تشدد اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ صدف زہرہ کی بہن نے علی سلمان علوی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کراچکی ہے ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >