سٹیٹ بینک نے سرمایہ کاری کی ری فنانس اسکیم پر مارک اپ ریٹ 5 فیصد کر دیا

سٹیٹ بینک نے سرمایہ کاری کی ری فنانس اسکیم پر مارک اپ ریٹ 5 فیصد کر دیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سرمایہ کاری کی ری فنانس سکیم پر مارک اپ ریٹ میں اصلاحات کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی ری فنانس اسکیم پر مارک اپ ریٹ کو 5 فیصد کر دیا ہے، اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے 17 مارچ 2020ء سے اب تک پالیسی ریٹ میں 625 بیسس پوائنٹس کمی کی ہے، جس کے بعد پالیسی ریٹ 7 فیصد پر آ گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اپنی 2 ری فنانس اسکیموں پر صارف کے مارک اپ ریٹس کو ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسٹیٹ بینک نے یہ فیصلہ پالیسی ریٹ میں کمی کے فوائد ری فنانس اسکیموں کے استعمال کنندگان تک پہنچانے کی خاطر کیا ہے، تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان سٹیٹ بینک نے طویل مدتی مالکاری سہولت (ایل ٹی ایف ایف) پر 6 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد جبکہ عارضی معاشی ری فنانس سہولت (ٹی ای آر ایف) پر صارف مارک اپ ریٹس کو موجودہ 7 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دیا ہے۔

عارضی معاشی ری فنانس سہولت اسٹیٹ بینک  نےنئی سرمایہ کاری اور موجودہ منصوبوں کی بیلنسنگ، ماڈرنائزیشن اور ری سٹرکچرنگ میں اعانت کے لیے متعارف کرائی ہے تاکہ معیشت کو تقویت مل سکے، اس سکیم کے تحت اب اسٹیٹ بینک، بینکوں کو ایک فیصد پر ری فنانس فراہم کرے گا جس میں بینکوں کا زیادہ سے زیادہ مارجن 4 فیصد ہو گا اور اس سکیم کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔

طویل مدتی مالکاری سہولت اسٹیٹ بینک کی سب سے پرانی ری فنانس سکیموں میں سے ایک اسکیم ہے، جس کے تحت مقامی طور پر اور درآمد شدہ نئی مشینری اور پلانٹ خریداری کے لیے برآمدی منصوبوں کے لیے فنانسنگ دستیاب تھی، مزید کے لیے اس سکیم کے تحت صارف مارک اپ ریٹ نان ٹیکسٹائل کے لیے چھ جبکہ ٹیکسٹائل کے شعبے کے لئے پانچ فیصد تھا، تاہم اب نئی سکیم کے تحت اسٹیٹ بینک نے نان ٹیکسٹائل کے صارف مارک اپ ریٹ میں ایک فیصد کمی کردی ہے، جس کے بعد نان ٹیکسٹائل مارک اپ ریٹ پانچ فیصد ہو گیا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>