آئل کمپنیوں نے یورو 5 تیل درآمد کرنے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کر دی

آئل کمپنیوں نے یورو 5 تیل درآمد کرنے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کر دی

آئل کمپنیوں کی جانب سے ایک اور حکومتی فیصلے کی مخالفت سامنے آئی ہے، آئل کمپنیوں نے  یورو 5 تیل پاکستان میں لانے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کر دی ہے، آئل کمپنیوں نے حکومت کو خط لکھا ہے کہ اگر پاکستان میں یورو 5 لایا گیا تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے فی لیٹر اضافہ ہو جائے گا۔

پٹرولیم ڈویژن کو آئل کمپنیز کی ایڈوائزری کونسل کی جانب سے خط لکھا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر یورو 5 عرب ممالک سے منگوایا جاتا ہے تو وہ ہماری پٹرولیم مصنوعات کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکیں گے۔

ایڈوائزری کونسل کے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہمیں اپنی یورو 5 کی ضروریات پوری کر نی ہیں تو ہمیں تیل یورپ سے درآمد کرنا پڑے گا اور یورپ سے درآمد کرنے کی صورت میں تیل کی ٹرانسپورٹیشن کاسٹ بڑھ جائے گی جس کی وجہ سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 سے 7 روپے فی لیٹر اضافہ ہو جائے گا، جس سے قومی خزانے پر سالانہ 25 سے 33 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

آئل کمپنیز نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ملک میں یورو 5 کی دستیابی کو یقینی بنانے میں تین سے چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوگا کیوں کہ ہماری آئل ریفائنریاں یورو 5 کے لیے مطلوبہ ضروریات پوری نہیں کر سکتیں، آئل کمپنیوں نے اپنے خط میں حکومت سے سفارش کی ہے کہ ملک میں یورو 5 کی دستیابی یقینی بنانے سے پہلے حکومت تمام شراکت داروں سے مذاکرات کرکے انہیں اعتماد میں لے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >