جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ایف بی آر میں پیش، جواب جمع کرادیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ایف بی آر میں پیش، جواب جمع کرادیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ آج اسلام آباد میں ٹیکس حکام کے سامنے پیش ہو گئیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو لندن میں جائیدادوں کی خریداری پر نوٹس جاری کیا تھا۔ سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کے کمشنر انٹرنیشنل زون کو تفصیلی تحریری جواب داخل کرا دیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے 45 منٹ تک ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنیشنل ٹیکس زون میں گزارے۔ انہوں نے منی ٹریل کی تفصیلات جمع کیں جن میں بتایا گیا کہ انہوں نے لندن کی جائیدادیں کیسے حاصل کیں۔

موقف دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ بیرون ملک رقم قانونی طریقے سے بھیجی، اسٹنڈرڈ چارٹرڈبینک کے اکاوَنٹ سے 7لاکھ پاوَنڈ بھجوائے، برطانیہ میں خریدی گئیں جائیداد سے میرے شوہر کا کوئی تعلق نہیں، مرکزی بینک کے پاس تمام بینک ٹرانزیکشن کی تفصیلات ہیں۔

ذرائع کے مطابق سرینا عیسیٰ نے یرون ملک رقم بھیجنے کے لیے ڈالر اور پاوَنڈ بینک اکاوَنٹس کی تفصیلات بھی جمع کرادیں۔ کراچی کلفٹن میں خریدی گئی پراپرٹی اور ٹیکس ریکارڈ بھی ایف بی آر میں پیش کردیا، والد کی جانب سے تحفہ میں ملنے والی زرعی زمین کی تفصیلات اور ڈیرہ مراد جمالی اور نصیر آباد کی زرعی زمین کی تفصیلات بھی پیش کردیں۔

اسکے علاوہ لندن کی جائیدادوں سے ملنے والے رینٹ کی تفصیلات بھی جمع کرائی گئی

گریڈ 20 کے ان لینڈ ریونیو کے افسر ذوالفقار احمد کو معاملے کی تحقیقات کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔کمشنر آٹومیٹک ایکسچینج آف انفارمیشن ذوالفقار احمد غیر ملکی جائیدادوں سے متعلق معاملات دیکھتے ہیں

سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ ایف بی آر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کی بیرونِ ملک جائیدادوں پر رپورٹ کے لیے3 ماہ کی مہلت دی تھی۔سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایف بی آر کمشنر ان لینڈ ریونیو اور انٹرنیشنل ٹیکسز زون نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا ، بیٹی سحر عیسیٰ اور بیٹے ارسلان کو گزشتہ ہفتے نوٹسز بھیجے تھے ۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ جسٹس قاضی عیسیٰ فائز کے خلاف صدارتی ریفرنس مسترد کر تے ہوئے ا درخواست گزار کی استدعا منظور کر لی تھی ۔

  • او مائی اگر تیرے پاس اپنے ٹیکس ادائیگیوں اور انکم کی تفصیل ہوتی تو ایف بی آر کا کوریئر نوٹس پہلی مرتبہ پیش کرتی اور قصہ ختم۔

    اب جب ایف بی آر اخبارات میں اشتہارات دینے جا رہی تھی تو شرمندگی سے بچنے کے لیے ایف بی آر چلی گئی۔۔

  • پاکستان میں ہر چور حرام خور فراڈیا لعنتی منی لانڈر جب بھی پکڑا گیا ڈرامہ بازی شروع ہو جاتی ہے یا حرام خوروں لعنتی فراڈیوں کے ہاتھ میں چھڑی آجاتی ہے یا ہسپتال داخلہ ہو جاتا ہے یا کلچ    پلیٹوں کی خرابی ہو جاتی ہے یا کوئی اور بیماری


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >