لاہور ہائی کورٹ کا پٹرول بحران کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا حکم

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان کا پٹرول بحران کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے پٹرول بحران کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ چیف جسٹس قاسم خان نے اٹارنی جنرل پاکستان سے کمیشن کے لیے نام طلب کرلیے۔

لاہور ہائیکورٹ میں پٹرول بحران کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کمیشن کے لیے نام بہتر نہ ہوئے تو عدالت خود تجویز کرے گی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ کمپنیوں کو 4 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا گیا، 26 جون کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر پٹرول مافیا کو 7ارب روپے کا فائدہ پہنچا یا گیا۔

چیف جسٹس قاسم خان نے اٹارنی جنرل پاکستان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کی تجاویز ہومیو پیتھک ہیں، کمیشن کے لیے نام بہتر نہ ہوئے تو عدالت خود تجویز کرے گی۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ اگرعدالت تجاویز میں ردو بدل کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا ہم نے کچھ نہیں چھپانا جو ذمہ دار ہوگا اس کیخلاف کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس قاسم خان نے کہا پٹرول بحران کی تحقیقات کے لیے کمیشن میں کس کو شامل کرنا ہے یہ فیصلہ حکومت نے ہی کرنا ہے، اگر کسی سرکاری افسر نے ریکارڈ چھپانے کی کوشش کی سخت کارروائی ہوگی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی رپورٹ میں الفاظ کے گورکھ دھندے کے علاوہ کچھ نہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ پرنسپل سیکرٹری یہ بھی بتائیں کہ بحران کا معاملہ وزیر اعظم کے علم میں کب لایا گیا۔عدالت نے ہدایت دی کہ کمیشن میں ایف بی آر الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں سے نمائندے شامل کیے جائیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ جب تک ذمے دار پکڑے نہیں جائیں گے تب تک بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔پرنسپل سیکرٹری یہ بھی بتائیں کہ بحران کا معاملہ وزیر اعظم کے علم میں کب لایا گیا۔

  • شکر ہے لوہار کورٹ کو عوام  کے بھلے بھی کچھ خیال ہے ورنہ حکومت میں شامل  مافیا کے کچھ گرگوں نے عمران خان کو یرغمال بنا کر عمران کی ناک کے نیچے اس طرح  کی لوٹ مار اور دن دہاڑے ڈکیتیاں  شروع کی ہوئی ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >