سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری سے کشمیر میں اربوں ڈالرز کے منصوبوں پر کام جاری

سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری سے کشمیر میں اربوں ڈالرز کے منصوبوں پر کام جاری، اب کی بار بھارت کو پنگا لینا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ جانیئے تفصیلات

پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ڈیم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کو بچایا جا سکے اور دوسری جانب ان سے بجلی پیدا کرکے توانائی کے بحران پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ سی پیک کے تحت آزاد کشمیر میں دو ہائیڈرو پاور میگا پراجیکٹس لگنے جا رہے ہیں جن میں سے ایک آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جب کہ دوسرا کوہالہ ہائیڈرو پراجیکٹ ہے۔

آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 700 میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس پر1.5 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے پر سرمایہ کاری چینی کمپنی کر رہی ہے۔اس پراجیکٹ سے میسر آنے والی بجلی سستی ہوگی کیونکہ ان پراجیکٹس کے نتیجے میں پانی سے بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

پاکستان میں فی الحال 40 فیصد بجلی تیل کی مدد سے پیدا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے خزانے کا ایک بڑا حصہ اس مد میں چلا جاتا ہے۔ تصور کیا جاتا ہے کہ ایسے بجلی گھر پاکستانی خزانے پر بہت بڑا بوجھ ہیں۔

بے نظیر بھٹو شہید کی حکومت کے دوران آئی پی پیز(انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کو بہت چھوٹ دی گئی تھی جس کے نتیجے میں تیل سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ گزشتہ 11 ماہ کے دوران بجلی پیدا کرنے کے لیے پاکستان نے 13.14 بلین ڈالرز کا تیل خریدا ہے۔

آزاد پتن پاور پراجیکٹ اسلام آباد سے 90 کلومیٹر دور آزادکشمیر میں دریائے جہلم پر بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے پاکستان، چین اور کشمیر کی حکومت کے درمیان 1.5 بلین ڈالر کی لاگت پر مبنی سہ فریقی معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔

یہ منصوبہ 2026 میں مکمل ہوگا جس کے نتیجے میں پاکستان میں3000 نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اس منصوبے کا ایک یہ بھی فائدہ ہو گاکہ اس کا ہمارے ماحول پر کوئی مضر صحت اثر نہیں ہوگا ۔

کوہالہ پاور پراجیکٹ 1124 میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت رکھنے والا منصوبہ ہے جس پر2.4 بلین ڈالرز کی لاگت آئے گی یہ منصوبہ بھی سی پیک کے تحت پاکستان چین اور کشمیر کے درمیان طے پایا ہے۔

مری سے تھوڑا آگے کشمیر کے آغاز پر کوہالہ کا علاقہ آتا ہے جہاں یہ منصوبہ لگایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں ایک ہی بار میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اگر کبھی جنگی صورتحال پیدا ہو تو ایسی جگہیں سب سے پہلے نشانہ بنائی جاتی ہیں مگر پاکستانی حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے تحت چین کو اس علاقے میں سٹیک ہولڈر بنانے کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ اب بھارت ایسی غلطی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

کیونکہ دوبارہ کسی قسم کا مس ایڈونچر وقوع پذیر ہونے کی صورت میں بھارت کو نہ صرف پاکستان بلکہ چین سے بھی مقابلہ کرنا ہو گا جو کہ نا ممکن ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >