کس طرح نوجوان کو معمولی لاپرواہی نے جیل پہنچایا؟ جانیئے تفصیلات

یہ واقعہ ان لوگوں کیلئے سبق ہے جو اپنے نام سے درج موبائل سِم استعمال کیلئے کسی دوسرے کو دیدیتے ہیں، ایک نوجوان نےموبائل سِم اپنی بہن کو استعمال کیلئے دی تو بہنوئی نے اس سم کا فائدہ اٹھاکر جرم کیا اور ایک بے قصور کو پھنسادیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس خادم حسین ایم شیخ اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اغوا برائے تاوان کے کیس پر سماعت کی جس میں گرفتار ملزم نے اپنی بہن کو سم استعمال کے لیے دی، بہنوئی نے اسی سم سے اغوا برائے تاوان کے لیے فون کیے

پولیس نے ریکارڈ چیک کیا تو سم اسد نامی شخص کے نام پر نکلی جسے پولیس نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔

بینچ کے روبرو ملزم اسد کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، ملزم اسد کے وکیل خواجہ نوید نے موقف دیا کہ اغوا برائے تاوان کیس میں گرفتار ملزمان سے سم برآمد ہوئی ہے جو میرے موکل اسد کے نام پر ہے۔

میرے موکل نے وہ سم اپنی بہن کو دی تھی، ملزم کے بہنوئی نے سم غیر قانونی طور پر استعمال کی، پولیس نے اسے گرفتار کرکے جیل بھجوادیا ملزم دس ماہ سے جیل میں ہے، عدالت نے موقف سننے کے بعد سماعت 16 جولائی تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق 17 جولائی 2019 کو ملزمان نے شہری کو اغوا کیا، مغوی سے 2 لاکھ تاوان طلب کیا، 40 ہزار دینے کے بعد مغوی کو رہا کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کا مقدمہ تھانہ زمان ٹاؤن میں درج ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >