عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کے دونوں حصے اصل ہیں، سابق سربراہ آئی بی

عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کے دونوں حصے اصل ہیں، سابق سربراہ آئی بی

سابق سربراہ آئی بی اور سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل کا کہنا ہے کہ انہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کے دونوں حصے دیکھے ہیں ان میں سے کسی ایک کو جعلی کہنا درست نہیں کیونکہ وہ دونوں ہی جے آئی ٹی رپورٹ کے حصے ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے ایک حصے پر 4 ممبران کے دستخط کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممبران جن کے دستخط غائب ہیں وہ دونوں پولیس کے افسران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حصوں پر ایک ہی تاریخ درج ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں حصے صحیح ہیں۔

Kamran Khan's Tweet

عزیر بلوچ جے آئی ٹی کے دونوں حصے من گھڑت نہ جعلی بلکہ مسلمہ حقیقت پی پی پی سن لےان کی حکومت میں انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اور ان کے سندھ میں آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل کیا کہ رہے ہیں نامی گرامی قانون دان فیصل صدیقی بھی تصدیق کررہے ہیں یہ JIT رپورٹ جلدسیاسی منظر نامہ یکسربدل دے گی

Posted by Kamran Khan on Saturday, July 11, 2020

شعیب سڈل نے کہا جب پولیس میں سیاسی اثرو رسوخ اور سیاست میں جرائم پیشہ افراد کی شمولیت ہو گی تو افسران ایسی رپورٹس پر دستخط نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے بھی اسی سسٹم میں رہتے ہوئے نوکری کرنی ہے۔

ان کے مطابق عزیر بلوچ کے حراست کے دوران 164 کے بیان اور جے آئی ٹی کے اس حصے کا متن جس کو سندھ حکومت قبول نہیں کر رہی ان کا اندرونی متن ایک ہی ہے۔

شعیب سڈل نے کہا کہ سندھ حکومت کو اس رپورٹ سے انکار نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ کل کو کوئی سپریم کورٹ میں جا کر اگر اپیل کرے تو معاملہ کھل کر سامنے آ جائے گا، انہوں نے کہا سندھ حکومت کو یہ معاملہ کھل کر سب کے سامنے آنے دینا چاہیے تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں تو ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آزادنہ کام کرنے کی اجازت دینا ہو گی تاکہ انصاف مل سکے اور سچائی سامنے لانے میں آسانی ہو۔

انہوں نے کہا جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے آزانہ کام نہیں کر سکیں گے تب تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے مگر یہاں کام کچھ اس طرح سے چلنتا ہے کہ موجودہ حکومت جوبھی کام کہہ دیتی ہے وہ اسی طرح کر دیا جا تا ہے۔

انہوں نے بلدیہ فیکٹری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں بااثر شخصیات کے کہنے پر ملزموں کو مدعی اور مدعی کو ملزم بنا کر پیش کر دیا گیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >