جج ارشد ملک کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک ریفرنس میں بری اور دوسرے میں سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی ویڈیو سکینڈل کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں، جج ارشد ملک کی ویڈیو سکینڈل کی انکوائری رپورٹ جسٹس سردار احمد نعیم نے تیار کی ہے، جسٹس سردار احمد نعیم کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ 13 صفحات پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے رضاکارانہ طور پر جرائم پیشہ گروہ میں شمولیت اختیار کی، ارشد ملک نے ثبوت نہیں دیا کہ اسے خوفزدہ کیا گیا تھا، ارشد ملک یہ بھی نہیں ثابت کر سکے کہ انہوں نے مرضی کے خلاف متنازع کام کیا ہے۔

ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کی جج ارشد ملک تک ہمیشہ سے رسائی تھی، نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کے بعد جج ارشد ملک جاتی امرا میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملا، اس کے علاوہ جج ارشد ملک نے عمرہ کے دوران حسین نواز سے ملاقات بھی کی۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے عمرے کے دوران حسین نواز سے ملاقات کرنے کے علاوہ ناصر بٹ سے رابطہ بھی کیا، رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مدینہ منورہ میں جج ارشد ملک کی حسین نواز کے ساتھ ملاقات کو اچانک قرار نہیں دیا جاسکتا، ارشد ملک کی عمر کے دوران حسین نواز کے ساتھ ملاقات طے شدہ تھی۔

انکوائری رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے فیصلے پر تیار کی گئی اپیل کا جائزہ بھی خود لیا، انکوائری کے دوران ارشد ملک نے تسلیم کیا کہ ویڈیو بنانے والے محمد طارق سے جان پہچان تھی، ارشد ملک نے دھمکیوں سے متعلق کبھی بھی افسران کو آگاہ نہیں کیا، ارشد ملک نے دباؤ کے تحت ملاقات کا ثبوت بھی نہیں دیا۔

13 صفحات پر مشتمل ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارشد ملک کی حسین نواز، نواز شریف اور ناصر بٹ سے ملاقاتوں کو اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ تمام کی تمام پہلے سے طے شدہ تھیں، جج ارشد ملک کی ملاقات کرنا دفعہ 30، 7 اور 31 کی خلاف ورزی ہے، نواز شریف کے خلاف فیصلے کا آخری پیرا ملزم کے موقف کی نفی کرتا ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے دستاویزات میں غیر مصدقہ کاپی فراہم کیں، جج ارشد ملک کے خلاف مس کنڈکٹ کا الزام ہے جس کی انھوں نے تردید نہیں کی، ارشد ملک کی جانب سے اپنے دفاع میں جاری کی گئی پریس ریلیز بھی مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتی ہے، ملزم کو دفاع کا موقع دینے کے باوجود وہ اپنے دفاع میں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار احمد نعیم کی جانب سے تیار کی گئی انکوائری رپورٹ میں ارشد ملک نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہیں استعفی دینے کے لیے پانچ سو ملین کی آفر کی گئی تھی، ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی کہا کہ دباؤ ڈالا گیا کہ استعفی دوں اور کہوں کہ نواز شریف کے خلاف ریفرنسز دباؤ کے تحت دائر کیے، انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل میں اپنے دفاع کے لیے ایک گواہ پیش نہ کر سکے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >