ایرانی ایجنسیاں عزیر بلوچ سے پاکستانی فوج کے بارے میں معلومات بھارت کے لیے اکٹھا کر رہی تھیں؟

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ رپورٹ کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن کو ابھی تک زیر بحث نہیں لایا گیا ہے،اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عزیر بلوچ کے ایرانی ایجنسیوں سے رابطے تھے، جبکہ علی زیدی جی جانب سے جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عزیر بلوچ کا کہنا تھا کہ مجھے میری ایک آنٹی نے ایرانی شہریت دلائی اور بعد میں مجھے وہاں کا پاسپورٹ بھی مل گیا۔

عزیر بلوچ کی علی زیدی کی جانب سے منظر عام پر آنے والی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق 2006 میں جب لیاری کے حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو میں کچھ عرصے کیلئے ایران چلا گیا، اس دوران میری ملاقاتیں ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کروائی گئی تھیں، اور ان کے ساتھ میرے معاملات طے پائے کہ میں دبئی سے بیٹھ کر ان کیلئے پاکستان میں آپریٹ کروں، ایرانی ایجنسیاں میرے ذریعے سے کراچی میں واقع آئی ایس آئی اور دیگر فورسز کے ہیڈ کوارٹرز اور آئی ایس آئی، ایم آئی ، کور کمانڈرز اور دیگرآفیشلز سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔

رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ حساس اداروں کے بہت سے افسران کے نام، گھروں کے پتے، دفاتر اور دیگر معلومات میں نے ایرانی ایجنسیوں کو فراہم کی تھی، ایم کیو ایم کے چند کارکنان بھی ایران میں اس جگہ آتے جاتے رہتے تھے جہاں میری ایرانی ایجنسی کے افسران سے ملاقات ہوتی تھی۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ علی زیدی کی جانب سے پیش کردہ اس جے آئی ٹی رپورٹ میں جو انکشاف ہوئے ہیں اس پر کسی نے بھی بات نہیں کی ہے، یہ سنگین نوعیت کے الزامات ہیں ا، اگر واقعی ایرانی ایجنسیاں اس قسم کی معلومات عزیر بلوچ سے نکلوا رہی تھیں تو وہ اس معلومات سے خود فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں یا ان ایجنسیوں کے پیچھے بھارتی ایجنسیاں کام کررہی تھیں، اس حوالے سے پاکستانی حکومت کو ایران سے وضاحت طلب کرنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کی جو جے آئی ٹی رپورٹ سندھ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں ایرانی ایجنسی افسرا ن سے ملاقات تک کا ذکر ہے مگر اس کے بعد اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ایجنسیاں کراچی کے عمومی سیکیورٹی کے حوالے سے معلومات لینا چاہتے تھے جو میں نے انہیں فراہم کی۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی رپورٹ میں کس کس افسر اور کن کن مقامات کی معلومات فراہم کی اس حوالے سے تفصیل کو ہٹا دیا گیا ہے جو ایک صفحے پر مشتمل ہے، اسی لیے علی زیدی سندھ حکومت کی جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >