سرکاری محکمے ہی بجلی چوری میں ملوث، لیسکو افسر کے بڑے انکشافات

سرکاری محکمے ہی ایک دوسرے کی چوری کرنے میں مصروف گریٹر اقبال پارک لاہور کو لیسکو کے دیئے گئے کنکشن کمرشل استعمال ہونے لگے بڑے پیمانے پر بجلی کی چوری میں پی ایچ اے اور لیسکو کے بڑے افسران بھی شامل۔

لیسکو کے ریکوری آفیسر نے انکشاف کیا کہ پارک کو دیئے گئے بجلی کے کنکشن کو پارک کمرشل سرگرمیوں کےلیے استعمال کر رہا ہے۔لاکھوں کروڑوں روپے کا ماہانہ منافع کمانے والے گریٹر اقبال پارک کے اندر بیٹھے کاروباری لوگ بھی چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں۔

گریٹر اقبال پارک کے اندر بنی کنٹینز، کیفیٹیریاز اور ریسٹورنٹ بھی پارک کی بجلی استعمال کرتے ہیں، جبکہ بل پارک کے سرکاری میٹر کے حساب سے دیا جاتا ہے۔

پارک کے لیے لگائے گئے ایک میٹر پر 11لاکھ 94 ہزار 30 یونٹ جبکہ دوسرے میٹر پر 14 لاکھ یونٹ استعمال ہو چکے ہیں۔ لیسکو ریکوری انچارج فدا حسین بٹ کے مطابق 6 ماہ پہلے پارک کی بجلی کاٹی گئی تھی مگر پھر افسران کی ملی بھگت سے بجلی بحال کر دی گئی۔

دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئر پی ایچ اے ناصر بٹ نے اعتراف کیا کہ وہ کنٹینوں سے کمرشل میٹر کے حساب سے بل وصول کرتے ہیں جبکہ پی ایچ اے کو یہ بل سرکاری ریٹ پر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واپڈا کو تو ہر ماہ بل ادا کیا جا رہا ہے۔

ناصر بٹ نے اعتراف کیا کہ پارک کے اندر موجود کنٹینوں اور ریسٹورنٹ میں سے کسی کے پاس کمرشل میٹر نہیں ہے۔

اس حساب سے پارک کو دی جانے والی بجلی کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگ چکا ہے۔

اس معاملے پر چیئرمین پی ایچ اے یاسر گیلانی نے نوٹس لے لیا، ان کا کہنا ہے کہ اس چوری میں جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

مگر دیکھنا یہ ہے کہ 6 ماہ قبل بجلی کاٹنے پر لیسکو افسر کو پیسوں کی آفر کرنے والے پی ایچ اے افسر اب اس انکوائری سے کچھ نکلنے دیں گے؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >