یوٹیوب نےندیم ملک کے اکاؤنٹ سے’وزیر اعظم کے کشمیر پر بیان’کو ڈیلیٹ پھر بحال کر دیا

 

 یوٹیوب نےندیم ملک کے اکاؤنٹ سے'وزیر اعظم کے کشمیر پر بیان'کو ڈیلیٹ پھر بحال کر دیا

دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یو ٹیوب نے نجی ٹی وی کے اینکر ندیم ملک کے یوٹیوب چینل سے وزیر اعظم پاکستان کا انڈیا کے زیر  قبضہ جموں کشمیر سے متعلق بیان کو پہلے ڈیلیٹ کر دیا اور پھر کچھ ہی دیر بعد دوبارہ بحال کر دیا، یوٹیوب کے اس اقدام پر اینکر ندیم ملک حیران رہ گئے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر سے متعلق بیان کو حذف کرنے کے معاملے پر بتاتے ہوئےندیم ملک کا کہنا تھا کہ مجھے یوٹیوب والوں کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں انہوں نے مجھے کہا کہ یہ ویڈیو ہماری کمیونٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ہے لہٰذا اسے فوری طور پر حذف کیا جا رہا ہے۔

یوٹیوب کی ای میل کا جواب دیتے ہوئے میں نے یوٹیوب سے اس ویڈیو پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا جس پر یوٹیوب کی انتظامیہ نے وزیراعظم عمران خان کے کشمیر سے متعلق بیان ‘جو کہ میرے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ تھا’کو انسانی حقوق کا مسئلہ سمجھتے ہوئے دوبارہ بحال کر دیا۔

اینکر ندیم ملک کا اس سارے معاملے کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کیسے یوٹیوب والوں نے ایک ملک کے وزیر اعظم کے انسانوں پر مظالم سے متعلق بیان کو حذف کر دیا؟ اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں مجھے ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بوسنیا کے شہر سربرینیکا میں مسلمانوں کے قتل عام کے 25 سال مکمل ہونے پر اپنے ویڈیو پیغام میں انڈیا کے زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈیا کی نسل پرست حکومت اور ان کی افواج کی جانب سے نسل کشی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو انڈیا کی 8لاکھ فوج نے محاصرے میں رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ آج بہت سی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں، لہذا مجھے خدشات ہیں کہ جس طرح سے بوسنیا کے شہر سربرینیکا میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی تھی بالکل اسی طرز کی نسل کشی کشمیر میں نہ شروع ہو جائے۔

انڈیا کے زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق وزیراعظم پاکستان عمران خان کے بیان کو ملکی میڈیا کے ساتھ ساتھ غیر ملکی میڈیا نے بھی نشر کیا تھا، جو ان کی ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز پر ابھی بھی موجود ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >