ٹڈی دل کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نےکیا کیا اقدامات اٹھائے؟

ٹڈی دل کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیا کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ جانیے شہباز گل کی زبانی

پاکستان کو کرونا وائرس کے موذی مرض کے بعد سب سے زیادہ نقصان ٹڈی دل نے پہنچایا ہے، جس پر کنٹرول کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے کون کون سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟ ان کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ آج وزیراعظم نیشنل لوکسٹ کنٹرول سینٹر میں گئے جہاں مجھے بھی ان کے ساتھ جانے کا موقع ملا۔

ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا کہ جب میں وزیر اعظم کے ہمراہ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سینٹر گیا تو مجھے بہت سی چیزیں سیکھنے کو ملیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس ملک کو مافیاز نے کس کس طرح سے لوٹا ہے؟ اور کس طرح سے ہر ادارے کا بیڑا غرق کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تفصیلات آپ کے ساتھ شئیر کرتا چلوں۔

ڈاکٹر شہباز گل کا اپنے ویڈیو پیغام میں بتانا تھا کہ ٹڈی دل کا پاکستان پر پہلی بار اتنا شدید حملہ نہیں ہوا اس سے پہلے بھی 1953 میں ٹڈی دل کا کام بہت بڑا حملہ ہو چکا ہے، اس کے بعد 1973 اور 1993 میں بھی ٹڈی دل نے حملہ کرکے پاکستان کو شدید نقصان سے دوچار کیا تھا۔

ٹڈی دل کے پہلے ہوئے حملوں کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے دی گئی سہولیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ جب 1953 میں ٹڈی دل نے پہلی بار پاکستان پر حملہ کیا تھا تب ہمارے پاس 203 لوگ تھے، جنہیں ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے رکھا ہوا تھا، اس کے بعد جب ٹڈی دل نے 1973 میں حملہ کیا تو اس وقت ہمارے پاس 140 افراد اور 137 گاڑیاں اور 8 جہاز تھے جو ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

1993 کے ٹڈی دل کے حملے پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ 1993 میں ٹڈی دل نے پاکستان پر حملہ کیا تھا تو تب اس ملک کے روح رواں نواز شریف کا دور حکومت تھا، اس دور میں پاکستان کے پاس اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے 140 افراد، 76 گاڑیاں اور 20 جہاز تھے، ان میں سے نواز شریف نے جب 2018 میں اقتدار ہمارے حوالے کیا تو اس محکمے میں صرف 32 ملازمین، 36 گاڑیاں اور 4 جہاز تھے، جن میں سے 3 جہاز صحیح طرح سے اڑنے کے قابل  ہیں۔

یہ وہ سہولیات ہیں جو عمران خان کو 1947 سے لیکر 2018 تک صرف ایک محکمہ کے اندر دی گئی ہیں، رواں سال ٹڈی دل نے پاکستان سمیت 52 ممالک میں ایک ہی دفعہ وار کیا ہے جب کہ تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ ٹڈی دل نے ایک ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہو، میں ہماری ٹیم اور پاک فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اتنے بڑے پیمانے پر اس قدرتی آفت سے پاکستان کو نجات دلائی ہے، اب اس کے صرف 26 اضلاع میں کچھ اثرات باقی رہ گئے ہیں جنہیں جلد ختم کر دیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں آج ہمارے پاس 80 جی پی ایس ڈیوائسز ہیں جو ماضی میں صرف 17 تھیں، 15 ہزار لیٹر ہمارے پاس صرف پیسٹی سائیڈ تھا، جسے ہم بڑھا کر دس لاکھ لیٹر تک لے آئے ہیں، سپرے کرنے کے آلات جو ماضی میں 20 سے 23 تھے آج 200 سے زیادہ ہیں، ماضی کے 4 جہازوں کے مقابلے میں آج ہمارے پاس 15 جہاز ہیں جن کی مدد سے ٹڈی دل پر اس کو ختم کرنے کے لیے سپرے کیا جا سکتا ہے۔

  • They need about 3000 spray drones and the pesticides distributed in all effected areas and places where they expect locusts attacks in the coming months. When locusts attack an area, the farmer has no time to wait for the planes to come and spray after a couple of weeks. As until then, most of the crops are already destroyed.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >