”پنجرے میں بچی زہرہ کو قید کرکے کہا جاتا مرغا ڈانس کرکے دکھاؤ“

پنجرے میں بچی کو قید کرکے کہا جاتا مرغا ڈانس کرکے دکھاؤ۔سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں زہرہ قتل کیس کے بارے میں لرزہ خیز انکشافات

سینیٹر مصطفی کھوکھر کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا۔ جس میں راولپنڈی میں طوطے اڑانے پر کم سن گھریلو ملازمہ زہرہ کو قتل کئے جانے سے متعلق لرزہ خیز انکشاف سامنے آئے ہیں۔

ایس ایس پی راولپنڈی فیصل نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زہرہ کے گال ، پیٹ ، ٹانگوں ، پوشیدہ اعضا پر بہت زیادہ تشدد کے نشان تھے، ہم نے کیس میں زیادتی کی دفعات بھی شامل کی ہیں، ملزم حسن صدیقی پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اسکا پرندوں کا بھی کاروبار ہے۔

ایس ایس پی فیصل نے کہا کہ مالکان بچی پر پہلے بھی تشدد کرتے تھے، جب بھی انہیں غصہ آتا تو میاں بیوی بچی پر تشددکرنا شروع کردیتے، طوطے اڑانے پر بچی کے سر پر ڈنڈے مارے گئے، بچی کے سر پر ڈنڈے کی چوٹ کے نشانات ہیں۔

ایس ایس پی نےمزید بتایا کہ ملزم حسن صدیقی کے فون میں سے کچھ ویڈیو ملی ، جنہیں فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیا گیاہے، ایک ویڈیو کلپ میں ایک پنجرے میں بچی کو مرغا رکھا ہے اور ایک پنجرے میں بچی کو رکھا ہوا تھا، بچی سے حسن کہہ رہا ہے کہ مرغا بن جاؤ ڈانس کرکے دکھاؤ۔

پولیس نے مزید بتایاکہ مقدمے میں ریاست مدعی ہے تاکہ سمجھوتا نہ ہو سکے، اگر ڈی این اے ٹیسٹ میں ریپ ثابت ہوا تو اس کی دفعات برقرار رکھیں گے ورنہ ہٹا دی جائیں گی، اس کیس میں ملزم حسن کی سزائے موت بنتی ہے۔

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ زہرہ قتل کیس میں راولپنڈی پولیس کی کاروائی سے مطمئن ہیں، کوشش ہے کہ بچوں کی گھریلو ملازمت کو ختم کریں۔

سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی نے کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ کو بچوں کی گھریلو ملازمت کو غیر قانونی قرار دینے کی سفارش کردی اور وزارت انسانی حقوق سے رپورٹ طلب کرلی

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل راولپنڈی کے علاقے بحریہ ٹاؤن میں پنجرے سے طوطے اڑانے پر 8 سالہ معصوم بچی زہرہ شاہ کو ملزم حسن صدیقی اور انکی اہلیہ نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے بچی دم توڑ گئی تھی ، دوران تشدد ملزمان معصوم زہرہ کی ویڈیوز بھی بناتے رہے تھے، تشدد کرنیوالا ملزم حسن صدیقی ہی بچی کو ہسپتال لے کر آیا اور پھر اسے وہاں چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے حسن صدیقی اور اسکی اہلیہ کو گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے مطابق بچی نے صفائی کرتے ہوئے اُن کے گھر میں موجود دو قیمتی طوطے غلطی سے پنجرے سے اڑا دیے تھے۔ جس کے بعد حسن صدیقی اور ان کی بیوی نے طیش میں آ کر بچی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

  • ہمارا مطالبہ ہے کہ ان قاتلوں کو بلکہ وحشی قاتلوں کو پھانسی دی جائے لیکن ساتھ ان لوگوں کو بھی لکایا جائے جو کبھی وکلا اور جج کے روپ میں ملازمین کو قتل کرتے رہے کبھی بڑے جاگیردار اور کبھی سرکاری ملازم کے روپ میں، ،،، جن کو بچانے کے لئے پیٹی بھائی بھی ڈھال بن کے معاملہ رفع دفع کردیتے تھے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >