ججز سے متعلق نامناسب الفاظ پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان مشکل میں

سوشل میڈیا پر ججز کو تنقید کا نشانہ بنانے پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان مشکل میں پھنس گئے۔۔ سپریم کورٹ نے ازخودنوٹس لیکر سینئر صحافی مطیع اللہ جان کیخلاف کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کے بعد مطیع اللہ جان کو نوٹس جاری کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور صدر سپریم کورٹ بار کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی

مطیع اللہ جان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

اپنے ٹویٹ میں مطیع اللہ جان نے کیس ایف بی آر کو بھجوانے کے معاملے پر ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور سنگین الزامات لگائے تھے۔ اپنے ٹویٹ میں مطیع اللہ جان نے معزز جج صاحبان کیلئے دغاباز، پیٹھ میں چھرا گھونپنے والا جیسے الفاظ استعمال کئے تھے اور کہا تھا کہ یہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قابلیت سے خوفزدہ ہیں ۔

واضح رہے کہ مطیع اللہ جان اس سے قبل بھی توہین عدالت پر معافی مانگ چکے ہیں

  • If one had he misfortune of listening to his Youtube coverage during the hearings, he was predicting end of this government, last nail in coffin of establishment etc etc in his one sided reporting from SC. But when the judgement came, all his analysis and predictions turned out false and instead he looked like a fool in-front of his subscribers. Ghussa tu banta hai.

  • وہ سینئیر صحافی جس کا پورا خاندان فوج میں ہے مگر اس کو فوج سے نکال دیا گیا تو اس عظیم سپوت نے پورے ادارے سے اس کا بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔

    اس نے یہ اصولی فیصلہ کرلیا کہ فوج کے خلاف ابلیس بھی کھڑا ہو تو وہ بنانگ دہل یہ اعلان کرے گا کہ ابلیس حق اور سچائی کی علامت ہے۔یہ “عظیم” صحافی روز فوج کے خلاف دل کی بھڑاس نکال کر رات کے آخری پہر یہ سوچ کے سوجاتا ہے کہ کل کا سورج طلوع ہونے سے پہلے وہ خود بری فوج کا سربراہ بن جائے گا جبکہ جنرل باجوہ ایک بغاوت میں قتل ہوچکے ہونگے مگر صبح اٹھتے ہی جب بیوی کی گالیاں سننے کو ملتی ہیں تو پھر سے اسی کام پہ لگ جاتا ہے۔

    فوجیوں کی بگڑی اولادیں جنہیں یہ لگتا ہے کہ وہ جنرل بننے کے کیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔

  • یہ مطی الله جان نا گے اور ممیسیا  ہوتا نا ہی یہ جنٹل مین کیڈٹ  اپنے ساتھ کاکول میں برا بھلّا  کرا تے ہوئے  اپنے  کمرے میں پکڑا جاتا نا ہی اسکا مونہ کالا کر کے اکیڈمی سے نکالا جاتا نا ہی یہ فوج کے خلاف بھونکتا اصل قصور اسکا ممیسیا  ہونا ہے  

  • If this guy is put behind the bars for his sustained insults and sinister campaign against the higher judiciary and Pakistani Armed Forces then no other journo will dare to indulge in this type of mud slinging on our institutions.

  • یہ بیغرت بیشرم نام نہاد صحافیوں کا ٹولہ جس میں سلیم کافی ،طلعت حسین،حاجن شیرازی،حامدمیر ،سہیل پٹواری،شاھد کامران،منصور پٹاخہ خان،نجم ٹھوسی،شہباز خانزادہ، آج کل ایک نیا جیو کا طوطا بول رہا ھے اقبال وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ نمونے آپنی تمام حدیں ملک کے سلامتی کے اداروں کے خلاف کراس کر چکے ہیں  لیکن آفرین ہو پاکستان کے ریاستی اداروں پر کہ وہ صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ قانون کے مطابق ان تمام لوگوں کے خلاف جھوٹ اور عوامی مفادات اور ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ بن سکتا ھے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >