پاکستان کی فوڈ ، واٹر اور انرجی سکیورٹی کے لیے دیامر بھاشا ڈیم اہم منصوبہ

مختلف وجوہات کی بنا پر 40سال سےتاخیر کا شکار دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی فوڈ، واٹر اور انرجی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا گیا ہے، یہ منصوبہ مجموعی طور پر چودہ سو ارب روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا، ڈیم کی تعمیر کے بعد تربیلا ، غازی بروتھا اور پن بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کی مجموعی سالانہ پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جو کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

موجودہ حکومت نے اپنی ترقیاتی حکمت عملی کے تحت دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر جو مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار تھی ان کو دور کرتے ہوئے ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ منصوبہ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے تقریباً 315 کلومیٹر بالائی جانب جبکہ گلگت سے تقریباً 180 کلو میٹر اور چلاس شہر سے 40 کلو میٹر زیریں کی جانب تعمیر کیا جا رہا ہے۔

واپڈا کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کے تین بنیادی مقاصد ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنا، ہر سال سیلاب سے ہونے والی تباہی کو بچانا اور بجلی صارفین کو سب سے کم لاگت پن بجلی فراہم کرنا ہے، کہا جا رہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے بعد 1974 میں تعمیر ہونے والے تربیلا ڈیم کی عمر میں کم و بیش 35 سال کا اضافہ ہو جائے گا، جو پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا آرہا ہے۔

واپڈا کے حکام کے مطابق ديامر بھاشا ڈیم کی تعمیر وہاں کے مقامی لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت بتائی جا رہی ہے، کیونکہ اس ڈیم کی تعمیر شروع ہونے پر وہاں کے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھل جائیں گے اور لوگ بڑے پیمانے پر بے روزگاری سے نجات پالیں گے، اس کے علاوہ اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان کا 6 لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر 3 ملین ایکڑ زرعی رقبہ بھی سیراب ہو سکے گا۔

  • If only Pakistan didn’t have corrupt Sharif and zardari family ruling Pakistan for decades, Pakistan would have timely completed these dams and would have a competitive Export industry and developed nation by now.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >