کرپٹ افسران کو بیورو کریسی سے نکالنے کیلئے سول سرونٹ رولز2020 آ گیا

کرپٹ افسران کو بیوروکریسی سے نکال باہر کرنے کے لیے سول سرونٹ رولز2020 آ گیا۔ جس کے مطابق 20 سالہ ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ کے قواعد وضع کیے گئے ہیں اب ہر افسر20 سالہ ملازمت مکمل ہونے پر کارکردگی کی لازمی جانچ پڑتال ہوگی۔

بیوروکریٹس کو اوسط درجے کی کارکردگی، خراب رپورٹس اور 3 افسران کے منفی ریمارکس پر ریٹائر کر دیا جائے گا۔ نیب کے تحت کرپشن کے مرتکب ہونے یا پلی بارگین یا رضاکارانہ واپسی والے افسر کو بھی ریٹائر کر دیا جائے گا۔

ریٹائرمنٹ سے پہلے متعلقہ افسر کو شوکاز نوٹس اور وضاحت کا موقع دیا جائے گا۔ اگر مجاز اتھارٹی کو مطمئن نہ کیا جا سکا تو متعلقہ افسر کو پنشن اور دیگر مراعات کے ساتھ ریٹائر کر دیا جائے گا۔

وفاقی بیوروکریسی میں دور رس اصلاحات! نیا قانون: کرپٹ نا اہل بیوروکریٹ 20 سال سروس پر ریٹائر ہوں گے!

وفاقی بیوروکریسی میں دور رس اصلاحات!نیا قانون: کرپٹ نا اہل بیوروکریٹ 20 سال سروس پر ریٹائر ہوں گے!کار کردگی پر وفاقی بیوروکریسی میں ترقی ریٹائرمنٹ ہوگی!ہر حال میں 60 سال عمر پر ریٹائرمنٹ اب ناممکن!

Posted by Kamran Khan on Wednesday, 15 July 2020

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب نے بتایا کہ اس قانون کے تحت رواں مہینے کے اندر تقریباً565 بیورو کریٹس کی کارکردگی کو جانچا جائے گا جو اب تک 20 سالہ ملازمت پوری کر چکے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی اس مطلوبہ معیات پر پورا نہ اترا تو اسے ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا جائے گا۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد صرف لوگوں کو ریٹائر کرنا نہیں بلکہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے کی اہلیت رکھنے والے لوگوں کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی 36 سالہ سروس کے دوران میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی سول سرونٹ کو اس کی نا اہلی کی بنیاد پر نوکری سے برطرف کیا گیا ہو۔ ہر حال میں افسران 60 سال تک اپنی نوکری پوری کرتے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اس ضمن میں چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے جو افسران کی کارکردگی کو جانچے گی اور نااہلی سامنے آنے یا کرپشن میں ملوث ہونے پر افسران کو ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کی کارکردگی پرکھنے کے لیے چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری لا اور سیکرٹری فنانس پر مشتمل کمیٹی جانچے گی۔

شہزاد ارباب نے یہ بھی بتایا کہ گریڈ 20 سے نیچے کے افسران کی کارکردگی کیلئے بھی متعلقہ محکمے کے سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی کارکردگی کو پرکھے گی جس میں کسی قسم کا سیاسی اثرو رسوخ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

  • پاکستان میں ویسٹ طرز پر بیوروکریٹس اور سرکاری ملازمین کا سسٹم لانا ہوگا جو کہ صرف اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر چلایا جاتا ھے  اور سرکاری ملازمین کا کام صرف عوام کے لیئے سہولیات پیدا کرنا تاکہ عوام اپنے کاروبار شروع کریں جیسا کہ ویسٹ میں ہوتا ھے  15 منٹ میں کمپنی کھول دی جاتی ھے اور لوگ اپنے بزنسس اسٹارٹ کر کے لوگوں کے لئے نوکریاں پیدا کرتے ہیں اور اس طرح سے ویسٹ میں سرکاری نوکری کا کوئی رجحان نہیں ھے حکومت ھر شخص کی سوشل لائیف کی زمہ دار ہوتی ھے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >