پاکستان میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے خودساختہ ڈرونز متعارف  

ملک بھر سے ٹڈیوں کا خاتمہ کرنے کیلئے پاکستان نے خود ساختہ ڈرونز متعارف کروادیئے۔ وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان کے  بنائے گئے ڈرونز ملک کی زراعت کی صنعت میں انقلاب لائیں گے۔

فواد چوہدری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اوبر کی طرح کرایے پر ڈرون سروس متعارف کروائیں گے ،جو کاشتکاروں کو ان کی ضرورت کے مطابق ڈرون  فراہم کرے گی، وزارت اب زرعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے ساتھ  کاشتکاری پر توجہ دے رہی ہے،تاکہ نوجوانوں کو بھی زرعی صنعت میں کام کرنے کی ترغیب دی جائے۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ٹڈیوں کے بحران سے نمٹنے کے لئے ڈرونز کی تیاری اور زراعت کی درخواست کے لئے ایک نجی کمپنی ،اے بی ایم۔ ستوما کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ یہ ڈرون نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حوالے کردیئے جائیں گے۔

پاکستانی کسان اب فصلوں کو بچانے کے لئے ڈرون ٹیکنالوجی سے بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ، ڈرون آسان ، تیز ، سستے اور استعمال میں آسان ہیں۔ مقامی پیداوار نے زرعی ڈرون کی لاگت میں ایک تہائی کمی کردی ہے،کاشتکاروں کو ڈرون خریدنے یا اس کے مالک بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون کے استعمال سے کیڑے مار دواؤں کا اسپرے روایتی طریقوں سے بہت زیادہ موثر ہے۔

کرونا وائرس  اور ٹڈیوں کے دوہرے خطرہ نے مقامی کمپنیوں کو متحرک کردیا ہے،ہائی ٹیک انڈسٹری نیشنل ریڈیو ٹیلی مواصلات کارپوریشن (این آر ٹی سی) میں بھی ڈرون تیار ہورہے ہیں جنہوں نے گذشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان کے ذریعے متعارف کرائے جانے والے پاکستان ساختہ وینٹی لیٹر بھی تیار کیے تھے۔

ملک کے 32 متاثرہ اضلاع میں ٹڈیوں کے خلاف آپریشن کیا گیا، جس کا رقبہ 2.6 ملین ایکڑ ہے۔ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (این ایل سی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ، 5336 سے زیادہ افراد اور 676 گاڑیوں پر مشتمل 1028 مشترکہ ٹیموں نے انسداد ٹڈیوں کے اسپرے کی کارروائیوں میں حصہ لیا،یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد ٹڈیوں سے لڑنے کے  لئے بائیوپیسٹی سائڈز biopesticides  تیار کررہا ہے۔

 دہائیوں میں بدترین ٹڈی دل کے حملے سے لڑنے کے لئے اسے قومی ایمرجنسی  قرار دیا گیا ہے۔ ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق ، تخمینہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان کی اڑتیس فیصد زمین ٹڈیوں  کی افزائش نسل کیلئے موزوں ہے۔ وزارت خوراک کا تخمینہ ہے کہ بدترین صورتحال میں ٹڈیوں سے زراعت کو ہونے والے نقصانات کم سے کم 490 ارب روپے سے 2.451 کھرب روپے تک ہوسکتے ہیں۔

آئندہ ہفتے سے  15 ستمبرتک  ٹڈیوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے ،اس انتباہ کے بعد کھیتوں میں کیڑے مار ادویات کے اسپرے کے استعمال کیلئے ڈرونز کی تیاری میں تیزی لائی گئی ہے،تاکہ فصلوں کو ٹڈیوں سے بچایا جاسکے۔

  • bullshit, kia in drone pakistan main banay hain ? kia in main use hona wala signals ka component pakistan main bana hai ? kia is ke microchip pakistan main bani hai ? kia is drone k blades pakistan main banay hain ?.

    kia is ke koe practical testing hue hai ? koe aik video available hai jis main ya zinda tiddi daals per spray kar raha hai ? kia is ke mass production pakistan main start hue hai ?

    it looks like some college/university level project .


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >