اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ججز کا وقار ‘اتنا کمزور نہیں کہ جسے سوشل میڈیا پر ایک ٹوئٹ سے نقصان پہنچے’۔

ایک طرف تو صحافی کے ٹویٹ پر از خود نوٹس کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے کارروائی کے آغاز پر اٹارنی جنرل، صحافی مطیع اللہ جان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی دفتر کے اعتراضات کو برقرار رکھا اور اسی صحافی کے خلاف مبینہ ہتک آمیز ٹوئٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست خارج کردی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ مناسب نہیں تھا کہ درخواست گزار جو کہ خود ایک وکیل ہے، فوری درخواست دائر کر کے نامناسب اور ناپسندیدہ مواد کی مزید تشہیر کرے، صرف چند افراد  نے اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پڑھا ہوگا تاہم اس پٹیشن پر عمل کرکے یہ عدالت اس کے پھیلاؤ میں آسانی پیدا کرے گی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جج کے فیصلے اور بعد کے طرز عمل اس کی سالمیت اور آزادی کا پیمانہ ہے، اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے کسی پر اپ لوڈ کردہ پیغام کی بنیاد پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تو پھر مبینہ توہین آمیز مواد کی تعداد کی وجہ سے درخواستوں کا سیلاب آجائے گا۔

عدالت نے کہا کہ معزز ججز جن کے بارے میں مبینہ ٹوئٹ میں بات کی گئی، ان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی شک نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ معاشرے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے اداروں اور افراد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جعلی، غلط، بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن پروپیگنڈا، سائبر بلیمنگ یا سائبر اسٹاکنگ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عدلیہ اور اس کے عہدیداروں کو نشانہ بنانا ایک عام بات ہوگئی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >