بااثر افراد کا خواتین پر بدترین تشدد، کپڑے پھاڑ دئیے،پولیس کا ایف آئی آر درج کرنے سے انکار

 

بااثر افراد کا خواتین پر بدترین تشدد، کپڑے پھاڑ دئیے،پولیس کا ایف آئی آر درج کرنے سے انکار

شیخوپورہ کے نواحی علاقے صفدرآباد میں بااثر افراد نے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، جس پر گھر میں رہنے والے افراد نے مزاحمت کی جس پر با اثر افراد نے مشتعل ہوکر مردوں سمیت گھر کی خواتین پر بدترین تشدد کر کے ان کے سر پھاڑ دیئے ، ملزم خواتین کے کپڑے پھاڑ کر انہیں زمین پر گھسیٹتے رہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

با اثر افراد کے ہاتھوں بد ترین تشدد کا نشانہ بننے والا متاثرہ خاندان جب بااثر ملزمان کے ظلم کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے شیخوپورہ کے پولیس اسٹیشن پہنچا تو پولیس والوں نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو دھکے مار کر باہر نکال دیا۔

پولیس والوں کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار پر متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ” ‏میری امی، خالہ اور والد کا سر پھاڑ دیا، بازو توڑ دیا اور زبردستی ہمارے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی، میری امی کو کپڑے پھاڑ کر زمین پر گھسیٹا، شیخوپورہ پولیس میری آیف آئی آر درج نہیں کر رہی، آئی جی پنجاب  فوری نوٹس لے کر آیف آئی آر درج کروائیں”۔

 

انصاف کے متلاشی خاندان نے انصاف کے حصول اور با اثر افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے شیخوپورہ کے علاقے صفدرآباد کے پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او کے نام ایک درخواست لکھی ہے، جس میں انہوں نے بااثر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور انہیں فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صفدر آباد کے ایس ایچ او کے نام لکھی گئی درخواست کا متن کچھ یوں ہے کہ :

بخدمت جناب ایس ایچ او تھانہ صفدرآباد ضلع شیخوپورہ

جناب عالیٰ
درخواست برائے اندراج مقدمہ برخلاف 1 صدام حسین ، 2 عامر حیات ، 3 عباس عبداللہ، 4 شہباز عبداللہ، 5 کاشف عباس ، 6 اویس عباس ، 7 عدنان حسین، 8 مسرور انور

گذارش ہے کہ سائل اپنے گھر واقعہ میلیانوالہ چک نمبر 537 جی بی میں موجود تھا مورخہ 2020-07-16 بوقت تقریبا 5 بجے سائل کی خالہ بازار جا رہی تھی تو ملزم عدنان نے سائل کی خالہ کو گالیاں دینا شروع کر دیں جس وجہ سے سائل کے گھر کے باہر شور ہونا شروع ہوگیا تو سائل نے باہر جا کر دیکھا کہ صدام حسین نے للکارا مارا کہ آج ان کے پورے خاندان کو زندہ نہیں چھوڑنا اور ملزم صدام حسین نے سائل کی خالہ کو ڈنڈے مارنا شروع کر دیے جس سے وہ زخمی ہو گئی۔

عدنان حسین نے میری امی کہ سر پر ڈنڈا مارا جس سے میری امی کا سر پھٹ گیا۔ جب سائل نے دیکھا تو سائل آگے گیا چھڑوانے کے لیے تو ملزم اویس اور کاشف نے مارنا شروع کر دیا اور ملزم اویس نے سائل کے بازو پر ڈنڈے مارنا شروع  کر دیے۔ جس وقت لڑائی کا شور سن کر میری مامی اور میرے خالہ زاد بھائی عمران علی اور محمد یوسف موقع پر پہنچے تو عباس عبداللہ، شہباز عبداللہ ، عامر حیات اور مسرور انور نے دھاوا بول دیا اور شہباز عبداللہ نے ڈنڈوں سے میرے خالہ زاد بھائی عمران علی کا سر پھاڑ دیا ۔

مندرجہ بالا ملزمان نے میری امی خالہ اور خالہ زاد بھائیوں کو مضروب کر کے سخت زیادتی اور انتہائی سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ملزمان صدام حسین، عدنان حسین ، شہباز عبداللہ اور دیگر ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے اور سخت سے سخت سزا دلوائی جائے۔

  • Focal Person (Digital Media) to CM Punjab

    Azhar
    @MashwaniAzhar

    Jul 17, 2020

    "The family has been contacted by Shiekhupura police, FIR is being lodged. The other party also claims their two persons got injured in the quarrel. Both parties are reported to be close relatives. Legal action is being taken as soon as victims came into contact with police.” 1/2

    Azhar

    @MashwaniAzhar

    "Families quarrelled in village mallian kalan, chak# 537, around 7pm. Hasnain Nazir’s family went to THQ hospital safdarabad. They were issued docket from Khidmat Counter and police guided them for MLC. But they left THQ at their own & went to DHQ without reporting to Police” 2/2

    Muhammad Hasnan

    @hasnan_nazir

    ·

    Village Malianwali chak # 537 G.B tehsil safdarabad district Sheikhupura

    Azhar

    @MashwaniAzhar

    Replying to
    @hasnan_nazir

    Forwarded to IG office


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >