سیالکوٹ میں پاکستان کا پہلا جدید آئی ایس او سرٹائیفائیڈ پولیس اسٹیشن قائم

سیالکوٹ میں پاکستان کا پہلا جدید  آئی ایس او سرٹائیفائیڈ پولیس اسٹیشن قائم

پنجاب میں تھانہ کلچر بدلنے کا بڑا آغاز ہوگیا، پنجاب پولیس میں اصلاحات کی جانب اہم قدم کے طور پر سیالکوٹ میں پاکستان کا پہلا جدید سرٹیفائیڈ پولیس اسٹیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

معاون خصوصی عثمان ڈار نے اس حوالے سے ایک ماڈل پولیس اسٹیشن کی ویڈیو جاری کر دی ہے، اس پولیس اسٹیشن میں جدید انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے، تھانے میں بینک کی طرز پر خصوصی کاؤنٹرز اور دیگر سہولتیں بھی موجود ہیں۔

عثمان ڈار نے لکھا کہ پاکستان کا پہلا پولیس اسٹیشن ہے جسے آئی ایس او 9001 سرٹیفکیٹ ملا ہے، پولیس کا نظام عالمی معیار کے مطابق بدلنے کا ہمار خواب اب حقیقت بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تھانہ کلچر بدلنے کا با ضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، ماڈل پولیس اسٹیشنز کا دائرہ کار صوبے بھر میں پھیلایا جائے گا، پولیس اسٹیشن میں شہریوں کی سہولت کو اولین ترجیح دی گئی ہے، شہریوں کو دعوت دیتا ہوں کہ خود اس مثبت تبدیلی کا مشاہدہ کریں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ماڈل تھانے میں ’’ڈسپیوٹ ریزولوشن‘‘ کاؤنٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، جبکہ سیالکوٹ کے باقی 8 پولیس اسٹیشنز کو بھی ماڈل تھانوں میں بدلا جائے گا۔ عثمان ڈار نے ڈی پی او سیالکوٹ اور ان کی ٹیم کو خصوصی تعاون پر مبارک باد بھی دی۔

عثمان ڈار نے بتایا کہ اس اسٹیشن میں ایف آئی آر اندراج سے تفتیش مکمل ہونے تک سب کچھ ریکارڈ ہوگا، پولیس تشدد سے ملزمان کی ہلاکت کے واقعات میں کمی آئے گی، پولیس انٹرنیشنل ایس او پیز کے تحت تفتیش کا طریقہ کار اپنائے گی، جبکہ سائلین اور پولیس افسران کی تھانے میں نقل و حرکت کی ویڈیو ریکارڈ ہوگی۔

  • The problem is the system and the people in it.  Not the building and machines.  They are very small part of the problem.

    If the system and people are not fixed police cannot be fixed. Some of the most corrupt, insensitive, savage and inhumane people work our in our Police department.

    Similar problem in other places. E.g. Judiciary,  Health, GOv offices etc.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >