سٹیزن پورٹل پر پولیس کے خلاف شکایت کیوں کی،شہری کو ہراساں کیا جانے لگا

سٹیزن پورٹل پر پولیس کے خلاف شکایت کرنا بھی شہری کو مہنگا پڑ گیا، ہراساں کیا جانے لگا

لاہور کے شہری شرجیل بابر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ انہوں نے رشوت لینے کے معاملے پر سٹیزن پورٹل پر پولیس کانسٹیبل کی شکایت کی تو اس کے اہلخانہ کے فون نمبرز پر فون کر کے شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا اور انکار پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

شرجیل بابر نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچھ روز قبل مسجد کے سامنے کچھ دیر کے لیے اپنی موٹر سائیکل چھوڑ دی اور جب دوبارہ وہاں اپنی موٹرسائیکل لینے کیلئے پہنچے تو اس جگہ پر پولیس موجود تھی۔

شرجیل نے بتایا کہ اہلکاروں نے ان سے پولیس اسٹیشن چلنے کو کہا جہاں جا کر انہیں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ موٹرسائیکل انہی کی ملکیت ہے، شرجیل نے بتایا کہ میں پولیس اسٹیشن پہنچا تو کوائف کی تصدیق کے بعد پولیس اہلکاروں کی جانب سے رشوت کے لیے کہا گیا جس پر نوجوان نے انکار کر دیا۔

شرجیل نے بتایا کہ اس کے انکار کے بعد اس کو کہا گیا کہ اگر وہ موٹرسائیکل لیجانا چاہتا ہے تو اسے رشوت دینا ہوگی۔ شرجیل نے جان چھڑانے کے لیے کچھ پیسے دیئے اور نکلتے ہیں سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرا دی۔

شرجیل کے مطابق واقعہ کے کچھ روز بعد ڈی ایس پی سبزہ زار نے ان کو واقعہ کی تحقیقات کے لیے اپنے دفتر بلایا مگر وہ پولیس اہلکار نہ پہنچا جس نے موٹرسائیکل چھوڑنے کے لیے پیسے لیے تھے۔ شرجیل نے لکھا کہ بتایا گیا کہ وہ اہلکار ملزموں کی گرفتاری کے لیے ریڈ پر گیا ہے۔

شرجیل نے بتایا کہ اس روز کے بعد اسے مختلف نامعلوم موبائل نمبرز سے فون آنے لگے جن میں اسے یہ شکایت واپس لینے کے لیے کہا گیا اور انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کے نمبر پر فون کر کے شکایت واپس لینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا گیا۔

شرجیل نے کہا کہ ان کے علاقے کا معزز شخص ایک کاغذ پر تحریر لکھ کر لایا جس پر درج تھا کہ میں یہ شکایت واپس لیتا ہوں اور اس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اس کاغذ پر دستخط کرے۔

شرجیل نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ اس علاقے کے غنڈوں کے ذریعے بھی اسے یہ شکایت واپس لینے کے لیے کہا گیا اور اس عمل میں لاہور کے ایک ایس ایس پی کا بیٹا بھی شامل ہے۔

شرجیل نے معاملے پر تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کے لیے وزیراعظم آفس اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ایک کانسٹیبل کے خلاف شکایت کرنے پر اسے اس قدر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ قصور وار کو پکڑنے اور قرار واقعی سزا دینے کی بجائے اسے اور اس کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >