پشاور :عدالت میں نبوت کا دعوے دار جج کے سامنے فائرنگ سے قتل

پشاور میں پولیس کے مطابق ایک مقامی عدالت میں توہین مذہب کیس کی سماعت کے دوران ایک شخص کو جج کے سامنے گولی مار کر قتل کیا گیا۔

یہ واقعہ بدھ صبح سیشن جج شوکت علی کی عدالت میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ملزم طاہر احمد نسیم کو عدالت میں مقدمے کی سماعت کے لیے لے جایا گیا تھا جہاں ایک شخص عدالت میں داخل ہوا اور ان پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والے شخص کی شناخت طاہر احمد نسیم کے نام سے ہوئی ہے اور مقتول کا پشاور کے اچینی بالا علاقے سے تھا۔

پولیس کے مطابق جب طاہر احمد کو جیل سے عدالت میں پیش کرنے کے لیے لایا گیا تو وہاں موجود لوگوں کے مطابق اس دوران ایک شخص آیا اور طاہر احمد سے بحث کی جس کے بعد اُس شخص نے کمرۂ عدالت میں طاہر احمد پر فائرنگ کرکے اسے قتل کردیا

سی سی پی او کا اس واقعہ پر کہنا تھا کہ پولیس نے طاہر احمد کے قاتل کو گرفتار کرلیا ہے۔ طاہر احمد پر توہین مذہب کا مقدمہ تھا۔ ان پر 153 اے، 295 اے، 295 بی، 295 سی اور 298 پاکستان پینل کوڈ کے تحت مقدمہ تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم پر کیس 2018 میں ہوا تھا، ان کی درخواست ضمانت بھی خارج کر دی گئی تھی۔

اپ ڈیٹ : طاہر احمد نسیم صرف توینِ مذہب کا ملزم نہیں تھا بلکہ جھوٹی نبوت اور خود بطور حضرت عیسیٰ کی دوبارہ واپسی کا بھی دعوے دار تھا۔

سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو کے مطابق طاہر نسیم کا کہنا تھا کہ :

‘اللہ نے مجھے مسیح بنایا ہے، میں اس صدی کا مجدد اور مسیحِ موعود ہوں جسکے آنے کی احادیث میں پیش گوئی ہے، مرزا صاحب کو مہدی سمجھتا ہوں اور میں انکا روہانی بیٹا ہوں، جیسے وہ ظلی بروزی نبی تھے ویسے ہی میں ظلی بروزی نبی ہوں، مجھے خواب میں کشف میں الہامات ہوتے ہیں’

یاد رہے طاہر نسیم پر مقدمہ چل رہا تھا اور اسکا ماورائے عدالت قتل غلط ہے، کسی جرم کی سزا دینا صرف ریاست کا کام ہے، عام شہری قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ قانون کی موجودگی میں عام شہری کا کسی بھی شخص کی جان لینا قانوناً قتل ہی شمار ہوتا ہے۔

  • غازی کا دیدار کیجئے.

    دن دیہاڑے، نام نہاد عدالت کے اندر، جج کے سامنے

    #سردار_دوجہان

    #محبوبِ_خدا

    #حضرت_محمد_مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

    کے گستاخ کو جہنم رسید کرنے والا

    #عظیم_غازی!

     

    اور جج پر واضح کردیا کہ تو کیا فیصلہ کرے گا،

    گستاخ کی ایک ہی سزا……………

     

    محمدﷺ کی غلامی دینِ حق کی شرطِ اول ہے ،

     

    ہو اگر اس میں کچھ خامی ،تو سب کچھ نامکمل ہے.

     

    #تاجدار_ختم_نبوت_زندہ_آباد

  • Qadiyni are kafir so if Kafir doesn’t believe in Prophet Mohammad P.B.U.H and Other Prophets P.B.U.H then whats the problem?

    How about the muslims start following the Sunnah of Prophet P.B.U.H  first!

  • جانےکیسےلوگ تھے وہ*

    ‏ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔
    اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔
    پادری نے لکھا !
    ‏”ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
    مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیااور ‏اچانک حملہ کر کے ہمیں مغلوب کر لیا گیا ہے۔
    یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔
    دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ‏ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔
    جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے ‏اُسے راستہ بتایا تھا۔
    اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
    لوگوں نے کہا،ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز ‏کا گھر ہے ۔
    قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔
    قاصدنے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبدالعزیز کو دے دیا۔
    ‏عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
    عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔ مہر لگا کر خط واپس قاصدکو دیدیا۔
    سمرقند لوٹ کر قاصدنے خط کا جواب اور ‏ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ، توپادری بھی مایوس اور افسردہ ہو گیا ۔
    اس نے سوچا کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا ؟اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے ‏گا۔
    مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند کے پاس پہنچے ۔
    حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
    ‏قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
    پادری نے کہا : قتیبہ کے لشکر نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار تارا ‏کا موقع دیا تھا۔
    قاضی نے حاکم کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
    حاکم نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
    سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب ‏و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔
    سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں ‏گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔
    قاضی نے حاکم کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا : میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟
    ‏حاکم نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
    قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
    اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو عدل ‏و انصاف کی وجہ سے ہی بخشی ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
    میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں ‏کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
    اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
    پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔چند گھنٹوں کے اندر ہی ‏مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔
    ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور اور مغلوب قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔
    ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک ‏دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں ۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں ‏سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔
    دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے ‏کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
    *کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔ آج غیر مسلم تو دور کی بات ،مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔*
    وہ کیا گردوں تھا کہ تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا.

  •  

    قال النبي صلى الله عليه وسلم أنا خاتم النبين لا نبي بعدي

    میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں

    ہماری زندگیاں ہماری پیارے نبیﷺ پر قربان۔۔

    اس قذاب مردود پر خدا کی لعنت پر اس کو قانون کے مطابق پھانسی دینی چاہے تھی نہ کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا جاۓ … مجھے اس مردود کی ذہنی حالت بکل ٹھیک نہیں لگتی جو نبوّت کا دعویدار ہے اور یہ دعوی اس چھوکرے کے سامنے بیٹھ کر کر رہا ہے – حالات کچھ بھی ہوں کبھی کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لیونی کی اجازت نہیں دی جا سکتی – اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم ہندستان میں برما میں چین میں بسنے والے مسلمانوں کی دفاع کس اخلاقیات کی بنیاد پر کریں گیں – ہم پھر نیوزیلنڈ میں مسجد میں قتل عام کرنے والے کو کیوں کر غلط کہ سکتے ہیں

     

    ہم حضرت عیسی ع کو اللہ کا بیٹا نہیں مانتے، کسی دیندار اور نیک گورے عیسائی کو چاہئیے کہ وہ ہمیں بھی اسی طرح سرعام قتل کر دے

    پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے تو یہ شاید عیسائیوں کا،اس طرح ساری دنیا میں جنگل کا قانون رائج ہو جائے گا،جس کی لاٹھی، اس کی بھینس

     

  • A guy with mental disorder didn’t deserve that. If he did then the person who killed him is a bigger psycho and deserves a worse death. This is banana republic of Pakistan where anything crime can be committed in the name of Islam by shayateen.

  • chalo ek or GHAZI mill gaya qoum ko abb ek or mazar baney ga jahan shirk prast ek pak deen ko naye andaaz mein pesh karein gay
    Maqtool bechara zehni bemaar tha , ek nahaq qatal kia hey ZilHaj ke pehley ashrey mein Allah Insaaf kerne wala hey


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >