اقرار الحسن نے قتل کی دھمکیاں دینے والے شخص کی ویڈیو شیئر کردی

https://urdu.siasat.pk/news/2020-07-30/news-43862

مشہور صحافی اقرار الحسن نے قتل کی دھمکیاں دینے والے شخص سے متعلق معلومات شیئر کردی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر مجھے یا میری ٹیم کے کسی بھی رکن کو قتل کیا گیا تو اس کا مقدمہ صوبہ سندھ کے چیف جسٹس، چیف جسٹس پاکستان، آئی جی سندھ اور اس ملک کے حکمرانوں کے خلاف درج ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق صحافی اقرار الحسن نے اپنے ایک گزشتہ ویڈیو پیغام میں یہ انکشاف کیا تھا کہ انہیں اورا ن کی ٹیم کو ایک شخص کی جانب سے قتل کی سنگین دھمکیاں دی جارہی ہیں ، اپنے ایک نئے ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپنے قاتل کو نامزد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جسے چند سال پہلے ٹیم سرعام نے رینجرز کے ساتھ مل کر پکڑا تھا اور یہ ایک جعلی ڈی ایس پی بن کر جعلی پولیس اہلکار اپنے اردگرد اکھٹے کرکے گھناؤنے جرائم میں ملوث تھا۔

اقرار الحسن نے کہا کہ صرف 24 گھنٹوں میں حاصل کیے گئے ریکارڈ کے مطابق اس شخص کی والدہ آنٹی شبنم پر 5 ایف آئی آر درج ہیں، اور اس جعلی ڈی ایس پی پر قتل، اقدام قتل، رہزنی اور ڈکیتی سمیت 7 ایف آئی آر درج ہیں اور یہ شخص آج بھی عدالت میں پیشی کے دوران دھمکی دے کر گیا ہے کہ میں ٹیم سر عام کو دیکھ لوں گا، اس پر اتنے مقدمات ہونے اور کھلے عام دھمکیاں دینے کے باوجود آج ہمارے ٹیم کے ایک رکن کو اغواا کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں اس کی عبوری ضمانت میں توسیع ہوگئی ہے۔

اقرار الحسن نے وجیہہ نامی اس جعلی ڈی ایس پی پر درج مقدمات کی تفصیل بھی سامنے رکھی اور کہا کہ ہم نے اس کے خلاف کارروائی 2016 میں کی لیکن اس پر مقدمات تو 2013 میں بھی درج ہوئے ہیں اور ابھی بھی یہ شخص قانون کی پکڑ سے باہر ہے۔

ہم دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں لیکن اس کو جواب دینا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس شخص نے میری ٹیم کے ایک شخص کو اغوا کرنے کی کوشش کی اسی لیے ہم اس کو بے نقاب کررہے ہیں اور موجودہ سسٹم کی خرابیوں کو سامنے لارہے ہیں کہ اتنے مقدمات ہونے کے باوجود ایک شخص آزاد ہے اور مزید جرائم کرنے کے در پے ہے۔

اقرار الحسن نے مزید کہا کہ ہم ڈرتے نہیں ہیں، ہم جب گھر سے نکلتے ہیں تو بچوں کا ماتھا چوم کر یہ سوچ کر نکلتے ہیں کہ پتا نہیں واپس آسکیں گے یا نہیں کس گولی پر ہمارا نام لکھا ہوگا ٹیم سرعام کے تمام اراکین جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتے ہیں ، لیکن اس ملک کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان خود اسی نظام نے لگایا ہے۔

ہماری مدد کرنے والا ایک شخص جس نے ایک مجرم کو گرفتار کروایا اسے اغوا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے مقدمے کا مرکزی ملزم عبوری ضمانت پر آزاد ہے اور ہمیں دھمکیوں پر دھمکیاں دیتا چلا جارہا ہے اور یہ نظام کچھ نہیں کرسکتا۔

  • kamal ha ab tak SCP action mein kyun nahi ayi.. agar in judges par koyi criticism kare to contempt of court ka case file kiya jata os person ke against Lekin idar aik shakhs ko apni jan ka khatra ha.. Video mein sindh ke CJ and is mulk ke CJ ke against case file karne ka keh raha ha agar iski jan ko koch hota ha.. lanat ho is mulk ke ghaleez justice system par. ye justice system sirf influential logo ko protect karta ha.. aik common person ke liye koyi protection nahi is justice system mein. shame

  • موجودہ نظام ، جو کرپٹ ججوں اور بیوروکریٹس سے بھرا ہوا ہے ، عمران خان کو اپنے وعدے پورے کرنے نہیں دے گا۔

    اس کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستانی عدلیہ ، بیوروکریسی ، سیاست ، صحافت ، پولیس ، فوج، وڈیرے ، جاگیردار ، کاروبار میں تمام کرپٹ افراد کا تعین کرنے کے لئے آئی ایس آئی اور ایف آئی اے (صرف ایماندار افراد کا استعمال کرتے ہوئے) استعمال کریں۔ برطانوی سلطنت کے پاؤں چاٹ کر ان وڈیروں اور جاگیرداروں کی ملکیت والی تمام اراضی کا تعین کریں ،

    ایمرجنسی کا اعلان کریں ، تمام اسمبلیاں تحلیل کریں ، تمام مجرموں کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر ایک ہفتہ کے اندر پھانسی دیں ، ان تمام زمینوں کو ضبط کریں جو انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری کے نتیجے میں حاصل کی گئی تھیں- یہ ضبط شدہ زمین حکومت پاکستان کی ملکیت میں ہمیشہ رہے گی تاکہ حکومت چلانے کے لئے ایک مستقل ذریع آمدنی رہے- اور یہ زمین کو صرف کاشتکاری کے لئے کسانوں کو دیا جاے جو ان جاگیرداروں اور وڈیروں کے پاس غلامی کر رہے تھے- اور کسان کو آمدن کا 60 فیصد حصہ لینا چاہئے اور 40 فیصد حصہ کسان حکومت کو زمین استمال کرنے کے حق کی مد میں ادا کرے- صرف اس زمین کو کاشت کیلئے استعمال کیا سکے گا بصورت دیگر حکومت کو چاہئے کہ وہ زمین پر قبضہ کرے اور اسے کاشت کے لئے دے جو کوئی بھی اس پر کاشت کرسکتا ہے۔

    اور پھر دوبارہ انتخابات کا اعلان کریں۔ صرف ان شرائط پر جو اوپر پوسٹ نمبر ١٩ میں بیان کی گئی ہیں

    صرف عمران خان ہی یہ کام کر سکتے ہیں ، کسی اور سے امید نہیں!

    بدترین صورتحال میں ، پی ٹی آئی انتخابات ہار جاے گی۔ لیکن پاکستان ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں اور مجرموں سے پاک ہوگا جو عام پاکستانیوں کا خون چوس رہے ہیں۔

    اس طریقہ سے جو فوائد حاصل ہونگے وہ یہ ہیں

    پہلا فائدہ – کرپٹ لوگوں کی مکمل تحقیقات کے بعد، ان لوگوں کی فرہست میں نام ڈالنے جن پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلنا ہے، ان مجرمان کو ایک ہفتے میں پھانسی دینا ممکن ہو سکے گا اور وہ غیر قانونی طریقے سے ملک سے فرار نہ ہو سکیں گے

    دوسرا فائدہ – غیر اخلاقی ذرا ۓ سے حاصل کی گئی زمین ضبط اور ہاریوں اور کسانوں میں کاشت کے مقصد کے لئے تقسیم کرنے کے کی فائدے ہیں – حکومت پاکستان کو ہمیشہ کے لئے مستقل ذریعہ آمدن کی رہ کھلے گی ‘ وہ زمین جہاں کاشت نہیں ہو رہی وہاں کاشت ہو سکے گی، کیونکہ ہاری کسان اپنی زمین سمجھ کر کاشت کریں گے تو لازمی ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا ‘ جاگیردار اور وڈیروں سے زمین واپس لینے سے ان کی قوت میں کمی واقع ہوگی’ اس کے علاوہ ہاری کسان زمین کاشت کے لئے ملنے کی خوشی میں اپنے اپنے جاگیرداروں اور وڈیروں کے حق میں ممکنہ احتجاج سے بھی اجتناب کریں گے

    تیسرا فائدہ – ملک ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں، ججوں، صحافیوں ‘ جاگیرداروں ، وڈیروں ‘ بیوروکریٹس جو پاکستان کی بنیادوں کو کھوکلا کر رہے ہیں ان سے ہمشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جا ۓ گا

    چوتھا فائدہ – پھانسیوں کے فوری بعد الیکشن کروانے کا اعلان کرنے سے ایک تو عالمی اداروں اور سپر پاورس کو پاکستان کے خلاف نیم فوجی حکومت رکھنے کی بنیاد پر پابندیاں لگانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور اوپر پوسٹ نمبر ١٩ کی شرائط پر الیکشن کروانے کے نتیجے میں صرف اور صرف وہ اشخاص سامنے آ ئینگے جو واقہی پاکستان کے عوام کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتے ہونگے

    پانچواں فائدہ – اس تمام کاروائی کے بعد عمران خان کو ٹی وی پر آ کر عوام کو اعتماد میں لے کر تفصیلات بتانی چاہیں کہ ان کو یہ قدم ملک کی سلامتی کے لئے کیوں اٹھانا پڑا – پاکستانی عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں اور امکانات ہیں کہ ان کی سمجھ میں بات آ جا ۓ گی ‘ برے سے برا الیکشن کے پی ٹی آئ کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا اور نئی حکومت عمران خان پر مقدمات قائم کرے گی اور زیادہ سے زیادہ سزا ہوگی مگر عمران خان جو کہ تقریبآ اڑھسٹ سال کے ہیں اور بہترین زندگی گزر چکے ہیں اور موجودہ صورت حال میں انتہائی مشکل لگ رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو سیدھے طریقے سے ہٹا نہیں سکیں گے اور ممکن ہے چند اور سال بغیر تبدیلی کے گزر لیں – لیکن اپنی ذات کی قربانی سے وہ پاکستانیوں کے بہتر مستقبل کے راستے کھول سکیں گے

    کچھ ترمیمات پارلیمنٹ بل کے لیے نیچے بیان کی جا رہی ہیں

    پارلیمنٹ کے ارکان کو پنشن نہیں ملنا چاہئے کیوں کہ یہ نوکری نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک انتخاب ہے اور اس کے لئے ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی ہے مزید یہ کہ سیاستدان دوبارہ سے سیلیکٹ ہو کے اس پوزیشن پر آسکتے ہیں

    مرکزی تنخواہ کمیشن کے تحت پارلیمنٹ کے افراد کی تنخواہ میں ترمیم کرنا چاہئے. ان کی تنخواہ ایک عام مزدور کے برابر ہونی چاہیئے- فی الحال، وہ اپنی تنخواہ کے لئے خود ہی ووٹ ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی سے من چاہا اضافہ کر لیتے ہیں

    ممبران پارلمنٹ کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری ہسپتال میں ہی علاج کی سہولت لینا لازم ہو جہاں عام پاکستانی شہریوں کا علاج ہوتا ہے

    تمام رعایتیں جیسے مفت سفر، راشن، بجلی، پانی، فون بل ختم کیا جائے یا یہ ہی تمام رعایتیں پاکستان کے ہر شہری کو بھی لازمی دی جائیں- وہ نہ صرف یہ رعایت حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ان کو انجوائے کرتا ہے اور وہ باقاعدہ طور پر اس میں اضافہ کرتے ہیں – جوکہ سرا سر بدمعاشی اور بے شرمی بےغیرتی کی انتہا ہے.

    ایسے ممبران پارلیمنٹ جن کا ریکارڈ مجرمانہ ہو یا جن کا ریکارڈ خراب ہو حال یا ماضی میں سزا یافتہ ہوں موجودہ پارلیمنٹ سے فارغ کیا جائے اور ان پر ہر لحاظ سے انتخابی عمل میں حصّہ لینے پر پابندی عائد ہو اور ایسے ممبران پارلیمنٹ کی وجہ سے ہونے والے ملکی مالی نقصان کو ان کے خاندانوں کی جائیدادوں کو بیچ کر پورا کیا جائے۔.

    پارلیمنٹ ممبران کو عام پبلک پر لاگو ہونے والے تمام قوانین کی پابندیوں پر عمل لازمی ہونا چاہئے.

    اگر لوگوں کو گیس بجلی پانی پر سبسڈی نہیں ملتی تو پارلیمنٹ کینٹین میں سبسایڈڈ فوڈ کسی ممبران پارلیمان کو نہیں ملنی چائیے

    ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سیاستدانوں کے لئے بھی ہونا چاہئے. اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہونا چاہئے اگر میڈیکلی ان فٹ ہو تو بھی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے
    * پارلیمان میں خدمت کرنا ایک اعزاز ہے، لوٹ مار کے لئے منافع بخش کیریئر نہیں *

    ان کی تعلیم کم از کم ماسٹرز ہونی چاہئے اور دینی تعلیم بھی اعلیٰ ہونی چاہیئے اور پروفیشنل ڈگری اور مہارت بھی حاصل ہو اور NTS ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہو

    .ان کے بچے بھی لازمی سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کریں

    سیکورٹی کے لیے کوئی گارڈز رکھنے کی اجازت نہ ہو

    جو ان شرائط پر الیکشن میں کھڑا ہونا چاہتا ہے تو بیشک ہو

  • بہت افسوس ہو رہا ھے پاکستان کے عدالتی نظام پر ۔چیف جسٹس اف پاکستان کو فوراً اس اس مجرم کے خلاف سو موٹو نوٹس لے کر کاروائی کرنی چاہیے ھے اور جن جن عدالتوں سے مجرم کو ضمانتیں دی گئی ہیں ان تمام عدالتوں کے ججوں کے خلاف بھی سو موٹو نوٹس لے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان تمام ججوں کی جائیدادوں کی جانچ پڑتال کرائی جائے کیونکہ یہ کام عوام یا حکومت نہیں کر سکتی اعلیٰ عدلیہ نے ہی موجودہ قوانین کے مطابق اپنی عدالتوں کو سدھارنا ھے عوام یا حکومت کے پاس اس بات کا اختیار نہیں ھے۔
    اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان ایک مرتبہ پھر عوام گزارش کرتی ھے کہ نیچلے لیول کی تمام کرپٹ ججوں کی تحقیقات کرائی جائیں کہ جو جو جج حضرات ملزمان کی ضمانتیں منظور کرتے ہیں ان فیصلوں کی تحقیات کیں جائیں اور ایک سپریم کورٹ کے 3جج صاحبان کی کمیٹی بنائی جائے اور تمام ججوں کے فیصلوں کو دوبارہ سے دیکھا جائے ۔اور کرپٹ ججوں کے خلاف فوراً کاروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی جج صاحب آپنے مرضی کے قانون کے خلاف فیصلے نہ دے سکے۔
    نیچلے لیول کی عدالتوں کا پوسٹ مارٹم کر کے کرپٹ ججوں کو برخاست کیا جائے اور نئے ایماندار ججوں کو بھرتی کیا جائے۔

  • Shame on the judicial system. If that country was having some ethics then the whole judicial system should have been wrapped.
    We can make no progress until and unless this rotten judicial system should be altogether shelved and bring new speedy judicial system.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >