شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر ایکشن کیلئے ایف آئی اے کی 11 رکنی ٹیم تشکیل

شوگر کمیشن کی رپورٹ پر ایکشن کے لئے ایف آئی اے کی 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ انکوائری ٹیم کے سربراہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد ڈاکٹر معین مسعود ہونگے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی 11 رکنی ٹیم جعلی طور پر چینی کی افغانستان برآمد کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

تحقیقاتی ٹیم میں کسٹمز، ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت سٹیٹ بنک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم منی لانڈرنگ کی بھی تحقیقات کریگی۔

وفاقی کابینہ نے 23 جون کو شوگر کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کی منظوری دی تھی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے گورنر سٹیٹ بینک، مسابقتی کمیشن اور تین صوبوں کو بھی خط لکھے تھے جس کیساتھ شوگر کمیشن رپورٹ بھی بھجوائی گئی تھی۔

خط میں کہا گیا ایف بی آر شوگر ملز کی بے نامی ٹرانزیکشنز کی تحقیقات کرے، نیب شوگر کمیشن کے نتائج کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرے۔

معاملے پر عدالتی فیصلہ آنے تک غیر ضروری اقدامات اٹھانے اور شوگر کمیشن رپورٹ پر حکومتی عہدیداروں کو بیان بازی سے روک دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے شوگر ملز مالکان کو سندھ ہائیکورٹ سے ملنے والا ریلیف ختم کرتے ہوئے چینی سکینڈل کے معاملے پر شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت کو کارروائی کی اجازت دی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کمیشن رپورٹ کی سفارشات کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کی منظوری دی ہے۔

شبلی فراز کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کی سفارشارت کے ضمن میں متعلقہ اداروں کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت میں اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >