اینکر پرسن اقرار الحسن پرپولیس کا حملہ

اینکر پرسن اقرار الحسن پرپولیس کا حملہ

حید رآباد پولیس نے نجی ٹی وی کے پروگرام سرعام کے اینکر پرسن اقرار الحسن پرحملہ کردیا ، ایس ایچ او نےاقرار الحسن کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔

تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے ہٹڑی تھانے کی حدود میں ٹیم سرعام نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سٹنگ آپریشن کیا تھا جس کے بعد تھانے کے ایس ایچ او فاروق راؤ نے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ اقرا ر الحسن اور دیگر سرعام کی ٹیم کے ارکان پر تشدد کیا اور انہیں کمرے میں بند کرنے کی کوشش کی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹیم سرعام نے متعلقہ تھانے کی جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا تھا جس پر تھانے کے ایس ایچ او نے اقرار الحسن کو مارا پیٹا ، رپورٹ کے مطابق تھانہ اہلکار گٹکا اور مین پوری کی گاڑیوں کو رشوت لے کر راستہ دیتے تھے۔

اے آر وائی نے واقعے کی  فوٹیج بھی نشر کی جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار اقرار الحسن پر تھپڑوں کی بارش کررہے ہیں اور انہیں کمرے میں بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اقرار الحسن نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔

  • یہ تھانوں کی پولیس کی غنڈہ گردی کیسی صورت قبول نہیں ھے فورا آئی جی کو ان افسران کے خلاف قانونی کارروائی کر کے سخت سے سخت سزائیں دی جائیں

  • موجودہ نظام ، جو کرپٹ ججوں اور بیوروکریٹس سے بھرا ہوا ہے ، عمران خان کو اپنے وعدے پورے کرنے نہیں دے گا۔

    اس کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستانی عدلیہ ، بیوروکریسی ، سیاست ، صحافت ، پولیس ، فوج، وڈیرے ، جاگیردار ، کاروبار میں تمام کرپٹ افراد کا تعین کرنے کے لئے آئی ایس آئی اور ایف آئی اے (صرف ایماندار افراد کا استعمال کرتے ہوئے) استعمال کریں۔ برطانوی سلطنت کے پاؤں چاٹ کر ان وڈیروں اور جاگیرداروں کی ملکیت والی تمام اراضی کا تعین کریں ،

    ایمرجنسی کا اعلان کریں ، تمام اسمبلیاں تحلیل کریں ، تمام مجرموں کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر ایک ہفتہ کے اندر پھانسی دیں ، ان تمام زمینوں کو ضبط کریں جو انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری کے نتیجے میں حاصل کی گئی تھیں- یہ ضبط شدہ زمین حکومت پاکستان کی ملکیت میں ہمیشہ رہے گی تاکہ حکومت چلانے کے لئے ایک مستقل ذریع آمدنی رہے- اور یہ زمین کو صرف کاشتکاری کے لئے کسانوں کو دیا جاے جو ان جاگیرداروں اور وڈیروں کے پاس غلامی کر رہے تھے- اور کسان کو آمدن کا 60 فیصد حصہ لینا چاہئے اور 40 فیصد حصہ کسان حکومت کو زمین استمال کرنے کے حق کی مد میں ادا کرے- صرف اس زمین کو کاشت کیلئے استعمال کیا سکے گا بصورت دیگر حکومت کو چاہئے کہ وہ زمین پر قبضہ کرے اور اسے کاشت کے لئے دے جو کوئی بھی اس پر کاشت کرسکتا ہے۔

    اور پھر دوبارہ انتخابات کا اعلان کریں۔ صرف ان شرائط پر جو اوپر پوسٹ نمبر ١٩ میں بیان کی گئی ہیں

    صرف عمران خان ہی یہ کام کر سکتے ہیں ، کسی اور سے امید نہیں!

    بدترین صورتحال میں ، پی ٹی آئی انتخابات ہار جاے گی۔ لیکن پاکستان ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں اور مجرموں سے پاک ہوگا جو عام پاکستانیوں کا خون چوس رہے ہیں۔

    اس طریقہ سے جو فوائد حاصل ہونگے وہ یہ ہیں

    پہلا فائدہ – کرپٹ لوگوں کی مکمل تحقیقات کے بعد، ان لوگوں کی فرہست میں نام ڈالنے جن پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلنا ہے، ان مجرمان کو ایک ہفتے میں پھانسی دینا ممکن ہو سکے گا اور وہ غیر قانونی طریقے سے ملک سے فرار نہ ہو سکیں گے

    دوسرا فائدہ – غیر اخلاقی ذرا ۓ سے حاصل کی گئی زمین ضبط اور ہاریوں اور کسانوں میں کاشت کے مقصد کے لئے تقسیم کرنے کے کی فائدے ہیں – حکومت پاکستان کو ہمیشہ کے لئے مستقل ذریعہ آمدن کی رہ کھلے گی ‘ وہ زمین جہاں کاشت نہیں ہو رہی وہاں کاشت ہو سکے گی، کیونکہ ہاری کسان اپنی زمین سمجھ کر کاشت کریں گے تو لازمی ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا ‘ جاگیردار اور وڈیروں سے زمین واپس لینے سے ان کی قوت میں کمی واقع ہوگی’ اس کے علاوہ ہاری کسان زمین کاشت کے لئے ملنے کی خوشی میں اپنے اپنے جاگیرداروں اور وڈیروں کے حق میں ممکنہ احتجاج سے بھی اجتناب کریں گے

    تیسرا فائدہ – ملک ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں، ججوں، صحافیوں ‘ جاگیرداروں ، وڈیروں ‘ بیوروکریٹس جو پاکستان کی بنیادوں کو کھوکلا کر رہے ہیں ان سے ہمشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جا ۓ گا

    چوتھا فائدہ – پھانسیوں کے فوری بعد الیکشن کروانے کا اعلان کرنے سے ایک تو عالمی اداروں اور سپر پاورس کو پاکستان کے خلاف نیم فوجی حکومت رکھنے کی بنیاد پر پابندیاں لگانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور اوپر پوسٹ نمبر ١٩ کی شرائط پر الیکشن کروانے کے نتیجے میں صرف اور صرف وہ اشخاص سامنے آ ئینگے جو واقہی پاکستان کے عوام کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتے ہونگے

    پانچواں فائدہ – اس تمام کاروائی کے بعد عمران خان کو ٹی وی پر آ کر عوام کو اعتماد میں لے کر تفصیلات بتانی چاہیں کہ ان کو یہ قدم ملک کی سلامتی کے لئے کیوں اٹھانا پڑا – پاکستانی عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں اور امکانات ہیں کہ ان کی سمجھ میں بات آ جا ۓ گی ‘ برے سے برا الیکشن کے پی ٹی آئ کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا اور نئی حکومت عمران خان پر مقدمات قائم کرے گی اور زیادہ سے زیادہ سزا ہوگی مگر عمران خان جو کہ تقریبآ اڑھسٹ سال کے ہیں اور بہترین زندگی گزر چکے ہیں اور موجودہ صورت حال میں انتہائی مشکل لگ رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو سیدھے طریقے سے ہٹا نہیں سکیں گے اور ممکن ہے چند اور سال بغیر تبدیلی کے گزر لیں – لیکن اپنی ذات کی قربانی سے وہ پاکستانیوں کے بہتر مستقبل کے راستے کھول سکیں گے

    کچھ ترمیمات پارلیمنٹ بل کے لیے نیچے بیان کی جا رہی ہیں

    پارلیمنٹ کے ارکان کو پنشن نہیں ملنا چاہئے کیوں کہ یہ نوکری نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک انتخاب ہے اور اس کے لئے ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی ہے مزید یہ کہ سیاستدان دوبارہ سے سیلیکٹ ہو کے اس پوزیشن پر آسکتے ہیں

    مرکزی تنخواہ کمیشن کے تحت پارلیمنٹ کے افراد کی تنخواہ میں ترمیم کرنا چاہئے. ان کی تنخواہ ایک عام مزدور کے برابر ہونی چاہیئے- فی الحال، وہ اپنی تنخواہ کے لئے خود ہی ووٹ ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی سے من چاہا اضافہ کر لیتے ہیں

    ممبران پارلمنٹ کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری ہسپتال میں ہی علاج کی سہولت لینا لازم ہو جہاں عام پاکستانی شہریوں کا علاج ہوتا ہے

    تمام رعایتیں جیسے مفت سفر، راشن، بجلی، پانی، فون بل ختم کیا جائے یا یہ ہی تمام رعایتیں پاکستان کے ہر شہری کو بھی لازمی دی جائیں- وہ نہ صرف یہ رعایت حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ان کو انجوائے کرتا ہے اور وہ باقاعدہ طور پر اس میں اضافہ کرتے ہیں – جوکہ سرا سر بدمعاشی اور بے شرمی بےغیرتی کی انتہا ہے.

    ایسے ممبران پارلیمنٹ جن کا ریکارڈ مجرمانہ ہو یا جن کا ریکارڈ خراب ہو حال یا ماضی میں سزا یافتہ ہوں موجودہ پارلیمنٹ سے فارغ کیا جائے اور ان پر ہر لحاظ سے انتخابی عمل میں حصّہ لینے پر پابندی عائد ہو اور ایسے ممبران پارلیمنٹ کی وجہ سے ہونے والے ملکی مالی نقصان کو ان کے خاندانوں کی جائیدادوں کو بیچ کر پورا کیا جائے۔.

    پارلیمنٹ ممبران کو عام پبلک پر لاگو ہونے والے تمام قوانین کی پابندیوں پر عمل لازمی ہونا چاہئے.

    اگر لوگوں کو گیس بجلی پانی پر سبسڈی نہیں ملتی تو پارلیمنٹ کینٹین میں سبسایڈڈ فوڈ کسی ممبران پارلیمان کو نہیں ملنی چائیے

    ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سیاستدانوں کے لئے بھی ہونا چاہئے. اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہونا چاہئے اگر میڈیکلی ان فٹ ہو تو بھی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے
    * پارلیمان میں خدمت کرنا ایک اعزاز ہے، لوٹ مار کے لئے منافع بخش کیریئر نہیں *

    ان کی تعلیم کم از کم ماسٹرز ہونی چاہئے اور دینی تعلیم بھی اعلیٰ ہونی چاہیئے اور پروفیشنل ڈگری اور مہارت بھی حاصل ہو اور NTS ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہو

    .ان کے بچے بھی لازمی سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کریں

    سیکورٹی کے لیے کوئی گارڈز رکھنے کی اجازت نہ ہو

    جو ان شرائط پر الیکشن میں کھڑا ہونا چاہتا ہے تو بیشک ہو

  • Iqrar ul hassan ka pass konsi authority hai jo jidher uss ka dil keraa Camera laa ka chala jataa hai..Bohat acha kiya iss Police wale na.. Aisa he Kerna Chaheye tha.. aur kiya galaa mein haar daala.. stupid pakistani’s media ki har baat pa yaqeen kertaa hain..

  • قاضی فائز عیسی کی بیوی کے متعلق ق کیس میں اگر سوھو موٹو لیا جا سکتا۔جلئے اچھی بات ہے
    تو معززججوں سے گزارش ہے کہ اقراراحسن کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپر بھی چھوٹا سا نوٹس لے ھی لیا جائے

  • pure amle ko sar e aam phansi dena chahiye
    inqelab inqelab waahid hal inqelab e islami ke zarye sharia’t ka nifaz…. haq ke liye jiddojohad, sabr aur Allah per tawakkal karo…. FIRQABAZI HARAM HAI, SIRF MUSLIM BANO

  • یہ تھانوں کی پولیس کی غنڈہ گردی کیسی صورت قبول نہیں ھے فورا آئی جی کو ان افسران کے خلاف قانونی کارروائی کر کے سخت سے سخت سزائیں دی جائیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >