ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کیسے ممکن ہوئی؟ اندر کی کہانی

صحافی عبدالقادر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کررہی تھی اور اس کے بدلے میں وہ این آر او کی خواہش مند تھی مگر این آر او کے بغیر ہی یہ قانون سازی ہوگئی اس کے پیچھے وزیراعظم کا ایک شخص سے رابطہ تھا۔

عبدالقادر نے کہا کہ یہ بل منظوری تک پہنچ گیا ہے، اس کے بدلے میں حکومت نے اپوزیشن کی صرف اتنی بات مانی ہے کہ اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا بس ان کی عزت بچ جائے اسی لیے انہوں قانون سازی کی حمایت کردی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بند کمرے کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے این آر او مانگا جارہا تھا اور وزیراعظم کی جانب سے اس کا اظہار بھی کیا گیا، رات گئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق اپوزیشن کی 35 ترامیم میں سے 2 ترامیم مان لی گئیں اور سینیٹ میں پیش ہونے سے پہلے یہ بل سینیٹ کی لاء کمیٹی میں پیش کیے جانے کا مطالبہ مانا گیا۔

عبدالقادر کا کہنا تھا کہ یہ معاملات طے کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بابر اعوان کو صبح بل پیش کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا ، دو دن پہلے تک اس بل کو منظور نہ ہونے دینے کیلئے بلند و بانگ دعوے کرنے والی اپوزیشن آخر میں ٹھس ہوکر رہ گئی اور یہ قومی سلامتی کا بل لاء کمیٹی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوگیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >