بھارت کے ساتھ رابطہ کر کے کلبھوشن کو مقدمے میں فریق بنایا جایا،اسلام آباد ہائیکورٹ

بھارت کے ساتھ رابطہ کر کے کلبھوشن کو مقدمے میں فریق بنایا جایا،اسلام آباد ہائیکورٹ

عدالت نے کلبھوشن کو  قانونی معاونت کی فراہمی کیلئے پاکستان کو بھارت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن کے لیے نمائندہ مقرر کرنے اور قانونی معاونت کے لیے پاکستان کو دوبارہ بھارت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے، عدالت کی طرف سے یہ ہدایت دفتر خارجہ کو دی گئی ہے، پاکستانی وزارت قانون کی جانب سے کلبھوشن کو قانونی معاونت اور نمائندہ آفر حاصل کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواست کی سماعت ہوئی۔

وزارت قانون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کلبھوشن کو بھی مقدمے میں فریق بنایا جائے، تاکہ اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔

سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا عدالت کو بتانا تھا کلبھوشن بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر اور را کے لئے پاکستان میں کام کر رہا تھا، جسے مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا تھا، کلبھوشن نے مجسٹریٹ کے سامنے دہشتگردی کا اعترافی بیان دیا ہے، جس پر کلبھوشن کو 2017 میں سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اٹارنی جنرل کا اپنے دلائل میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی دو بار دی لیکن وہ بھاگ نکلا، اس کے باوجود پاکستان نے بھارت کو تیسری دفعہ قونصلر رسائی کی پیشکش 18 جولائی 2020 کو کی، جس پر بھارت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، بھارتی حکومت قانونی فورم استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، بھارتی حکومت چاہتی ہے کہ ہمیں کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف یا سیکیورٹی کونسل میں لے کر جائے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے کلبھوشن کے لیے ابھی تک کوئی وکالت نامہ دستخط نہیں کیا گیا، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ عدالت اس مرحلے پر مداخلت نہ کرے اور بھارت کو اس کارروائی کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا جائے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنے ریمارکس میں دفتر خارجہ کے حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت اس سلسلے میں بھارتی حکومت کے ساتھ رابطہ قائم کرے اور کلبھوشن کو مقدمے میں فریق بنایا جایا۔

عدالتی ہدایت پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اس سلسلے میں تین ہفتوں کا وقت درکار ہے، جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا قبول کرتے ہوئے سماعت تین ستمبر تک ملتوی کر دی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >