حکومت نے سرکاری ملازمین کو نجی کاروبار، ٹریڈ اور کنسلٹنسی سے روک دیا

حکومت نے سرکاری ملازمین کو نجی کاروبار، ٹریڈ اور کنسلٹنسی سے روک دیا، خلاف ورزی پر کارروائی کا عندیہ

حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کو نجی کاروبار کرنے، ٹریڈ اور کنسلٹنسی سے روک دیا گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بھی اس سلسلے میں ہدایت نامہ جاری کردیا گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اپنے جاری کردہ ہدایت نامے میں سرکاری ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ حکومتی قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرنا تمام سرکاری ملازمین کے لیے ضروری ہے، تاہم اگر کسی ملازم کی طرف سے عملدرآمد نہیں کیا جائے گا تو وہ مس کنڈکٹ کے مترادف ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اپنے ہدایت نامے میں سرکاری ملازمین کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی ملازم خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا تو اسکے خلاف گورنمنٹ سرونٹس رولز کی مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا ہدایت نامے میں کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین حکومت کی اجازت کے بغیر نجی کاروبار اور ملازمتیں نہیں کر سکتے، تاہم اس سلسلے میں سرکاری ملازمین کی جانب سے نجی ملازمتیں اور کاروبار کی مثالیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹس میں آئی ہیں، جس پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سرکاری ملازمین کو نجی کاروبار، ٹریڈ اور کنسلٹنسی سے روک دیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >