نیو یارک ٹائمزسکوائر میں کشمیریوں پربھارتی مظالم اجاگرکرنے کیلئے بل بورڈز آویزاں

نیو یارک کے ٹائمز سکوائر پر کشمیریوں ہونیوالے مظالم اجاگر کرنے کے لیے بل بورڈز پر پیغامات آویزاں

جنت نظیر وادی کشمیر پر گزشتہ سال 5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا دیا جس کو کل ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ بھارت کے اس بدترین لاک ڈاؤن کے بعد کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

اب چونکہ بھارت کا یہ بدترین کرفیو دوسرے سال میں داخل ہونے جا رہا ہے اس لیے اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کے لیے امریکہ کے شہر نیو یارک میں تاریخی ٹائمز سکوائر کے مقام پر غیر قانونی طور پر قید کیے گئے 80 لاکھ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بل بورڈ پر پیغامات آویزاں کیے گئے۔

Pro-Kashmir billboards in Times Square NY#KashmiriLivesMatter#KashmirWantsFreedom

Posted by Adeel Habib on Monday, August 3, 2020

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹائمز سکوائر پر دکھائے جانے والے ان پیغامات کی ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بل بورڈز پرLetKashmirSpeak# اور OneyearSeige# لکھا گیا ہے۔
دراصل گزشتہ سال جب سے کشمیر میں یہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے اس کے بعد سے لے کر اب تک کشمیریوں کے لیے یہ جبری تشدد، گمشدگیوں اور محاصرے کا سال ہے۔ جہاں کوویڈ19 کے نام پر کرفیو میں مزید سختی کر کے کشمیریوں کو تشدد اور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

31 جولائی کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا تھا کہ 5 اگست کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے یوم استحصال منایا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ گزشتہ سال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے غیر قانونی طور پر کشمیر کی حیثیت بدلنے کے لیے کشمیر کو غیر قانونی طور پر 3حصوں میں تقسیم کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کے عوام گزشتہ ایک سال سے بدترین لاک ڈاؤن اور کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں ان کی مشکلات کا اندازہ کرنا نا ممکن ہے کہ کس طرح وہ قابض بھارتی فوج کے مظالم کا شکار ہو رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا تھا کہ 5 اگست کے اس بھارتی اقدام کا مقصد کشمیری مسلمانوں کی شناخت کو بدلنا تھا اور اس غیرقانونی بھارتی اقدام پر خود بھارت دو گروپوں میں بٹ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کے کشمیر کے عوام بھی اس غیر انسانی اور غیر قانونی بھارتی فعل کو مسترد کر چکے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >