الیکشن کمیشن: فیصل واوڈا کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر فریقین سے دلائل طلب

الیکشن کمیشن: فیصل واوڈا کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر فریقین سے دلائل طلب

الیکشن کمیشن: فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر کی گئی درخواست پر فریقین سے مزید دلائل طلب

الیکشن کمیشن میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی دوہری شہریت چھپانے کے الزام میں نااہلی کیلئے دائر درخواستوں پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے سماعت کی، جس میں فیصل واوڈا کی جانب سے وکیل محمد بن محسن پیش ہوئے، جنہیں درخواست گزاروں کی جانب سے جواب کی کاپی فراہم کی گئی۔

چار رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہ اس کی سماعت کا آغاز کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن میں نہ کوئی درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوا اور نہ ہی جواب دہ کے وکیل پیش ہوئے، آج سب یہاں پر موجود ہیں تو جواب دہ کے وکیل درخواست گزاروں کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کا جائزہ لے لیں۔

دن 12 بجے تک ملتوی کی گئی درخواست کی سماعت جب دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس ارشاد قیصر نے کہا کہ اب جائزہ لیتے ہیں کہ درخواست قابل سماعت ہے کہ نہیں جس پر درخواست گزاروں نے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے  قرض کی تفصیلات کے علاوہ دوہری شہریت کو بھی چھپایا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بینچ کے روبرو پیش ہوکر درخواست گزاروں نے بتایا کہ فیصل واوڈا کی2014-15 میں پاکستان میں 130ملین روپےکی جائیداد تھی، جس کا فیصل واوڈا نے ٹیکس نہیں دیا، اس کے علاوہ ان کی بیرون ملک بھی مہنگی جائیدادیں ہیں جن کو خریدنے کے ذرائع اور منی ٹریل نہیں دیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کے وکیل محمد بن محسن نے اس موقع پر کہا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں ایک ہی موقف ہے کہ فیصل واوڈا کی کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے دہری شہریت تھی، لیکن درخواست گزاروں کو الیکشن کمیشن کی بجائے اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف رجوع کرنا چاہیے تھا جو ان کی درخواست پر 30 دنوں کے اندر درخواست کو الیکشن کمیشن بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے۔

وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ممبر کو الیکشن کمیشن اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر نااہل کر سکتا ہے، لیکن درخواستوں گزاروں کی جانب سے کسی نے بھی اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ سے رجوع نہیں کیا اور نہ ہی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے الیکشن کمیشن کو درخواست بھیجنے سے انکار کیا، اس کے علاوہ درخواست گزاروں نے اپنی درخواست میں یہ بھی نہیں لکھا کہ انہوں نے الیکشن ایکٹ کے کس آرٹیکل کے تحت درخواست فائل کی ہے۔

اس موقع پر جسٹس ارشاد قیصر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل بہت سے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران کی نااہلی کے فیصلے کیے ہے، الیکشن کمیشن کے علاوہ سپریم کورٹ نے بھی ارکان اسمبلی اور سینیٹ کی نااہلی کے بہت سے فیصلے کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے دونوں فریقین کے دلائل سنتے  ہوئے درخواست کو قابل سماعت قرار دینے سے متعلق مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو 3 ستمبر تک ملتوی کر دیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >