رافیل سے بھارت کی جنگی صلا حیت کتنی بڑھی؟ اصل حقیقت ایئر فائٹر کی زبانی

رافیل سے بھارت کی جنگی صلا حیت کتنی بڑھی؟ اصل حقیقت ایئر فائٹر کی زبانی

صحافی اور بلاگر اطہر کاظمی نے پاک ایئر فورس کے سابق فائٹر پائلٹ اور انٹرنیشنل سیکیورٹی تجزیہ کار سکواڈرن لیڈر فہد مسعود سے بھارت کو ملنے والے رافیل طیاروں سے متعلق سوال کیا جس پر فہد مسعود کا کہنا تھا کہ 5 جہاز ملنے کے بعد جتنا بھارتی میڈیا واویلا کررہا ہے اسے کسی قسم کی فضائی صلاحیت میں برتری قرار دینا سراسر غلط ہوگا۔

فہد مسعود نے مزید کہا کہ کسی سسٹم کو حاصل کرلینا اور اسے فعال کرکے استعمال تک لے کر جانے کی بھارتی صلاحیت بہت سست ہے، رافیل طیاروں کی انٹیگریشن میں بھی بھارت کو 9 ماہ سے ایک سال لگنے کا امکان ہے اس کا فوری طور کسی قسم کا اثر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

اطہر کاظمی کی جانب سے بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فضائی صلاحیت بھارت کے ہمسایوں میں کسی کے پاس نہیں ہے سے متعلق سوال پر فہد مسعود کا کہنا تھا کہ چین کے دعوی کے مطابق ان کے پاس جے 20 نامی پانچویں جنریشن کے فائٹر جیٹس ہیں جبکہ رافیل 4 اعشاریہ 5 جنریشن طیارہ ہے، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ چینی طیارے ابھی تک دنیا میں کہیں بھی استعمال ہوتے نظر نہیں آئے جبکہ رافیل دنیا میں بہت سی جگہوں پر کامیاب آپریشنز کرچکے ہیں۔

فہد مسعود نے مزید کہا کہ کوئی بھی جدید سے جدید بندوق ضرور اہم ہوتی ہے مگر اصل اہمیت اس بندوق کو چلانے والے کی ہوتی ہے، بھارت اور پاکستان کی صلاحیت کا موازنہ کیا جائے تو ہم نے ماضی کی جنگوں کے بعد 27 فروری 2019 کو دنیا کو ثابت کیا ہے ، ہم نے ہمیشہ تاریخی طور پر جنگیں لڑیں ہیں، طیاروں، ٹیکنالوجیز یا سائنس کی بات ایک طرف اہم یہ ہے کہ ان کو چلا کون رہا ہے ، ہمارے پائلٹس ایسے لڑتے ہیں جیسے وہ ٹریننگ دے رہے ہوں ہم بہت سی صلا حیت نہ ہونے پر بھی ان کے بغیر اسی کو مختلف انداز میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔

فہد مسعود کا مزید کہنا تھا کہ ہم ٹیکنالوجیز کے محتاج نہیں ہیں ہم لڑنا جانتے ہیں، ہمارے پاس ڈھائی سے تین سو فائٹر طیارے ہیں جبکہ بھارت کے پاس 6 سو سے 7 سو تک لڑاکا طیارے ہیں، ہم خود سے دوگنی بڑی ایئر فورس کو 1965 کے پاس سے سنبھال رہے ہیں، ہماری فورس دشمن کے عزائم کے خلاف اور ان کا توڑ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے، ہم رافیل کا توڑ نکالنے پر پہلے بھی کام کررہے تھے اور اب بھی ہم اس قسم کی مشقیں کرتے رہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

فہد مسعود کا کہنا تھا کہ حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھیں تو ہم مانتے ہیں کہ بھارت کے پاس ایک زیاد ہ رینج والا میزائل سسٹم ہے تو ہمارے پاس بھی اسی رینج کے میزائل شکن نظام ہونا چاہیے جو کہ ہمارے پاس ہے، میں اس نظام پر بات نہیں کرسکتا لیکن ہم اس پر بہت عرصے سے کام کررہے ہیں، اگر 27 فروری کو مگ 21 کی جگہ رافیل ہوتے ہم تب بھی بھارت کو سرپرائز دینے میں کامیاب ہوتے، یہ سب لڑنے کی صلاحیت اور سٹرٹیجی پر منحصر ہے۔

پاکستانی پائلٹس اس ایئر فورس کے پائلٹس کو ٹریننگ دیتے ہیں جس کے پاس 30 سے زائد رافیل طیارے موجود ہیں۔

  • رافیل بھگوڑا طیارہ
    انڈین فضائیہ (آئی اے ایف) کو لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے۔ اب 29 جولائی سنہ 2020 کو فرانس میں بنے پانچ جہاز انڈیا پہنچے۔ کیا طیارے انڈیا کی دفاعی خلا کو پُر کرپائیں گے۔ ابھی صرف صرف پانچ طیارے آئے ہیں اور انڈین خوشی سے کود رہے ہیں۔ کیوں؟’ یہ سب سیاسی ہے، مودی پاکستان کے بجائے کانگریس کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ میں لگا ہوا ہے۔ چین تو دور کی بات ہے اس کی ائیرفورس پاکستان کے ایف۱۷ کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے،
    رافیل میں کیا برتر ہے وہ بھاگنے میں بہت تیز ہے اس کے پاس دوانجن ہیں، اگر کسی جہاز کو گولی لگ جائے تو پھر نہ اس کے دوانجن اس کے کام آتے ہیں اور نہیں اس کا بھگوڑا پن۔۔۔۔ ارے اگر مرد میدان ہو تو ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا کرو نہ کہ ڈبل اسپیڈ سے بھاگنے کی صلاحیت پر ناز کرو۔
    رافیل میں ڈبل اسپیڈ سے بھاگنے کی صلاحیت پر اس کا نام بھگوڑا طیارہ زیادہ مناسب ہے۔

  • If Rafale cannot dominate China, and China also cannot afford to lose CPEC then it’s useless.

    As for Pakistan, it has built it’s own fighter jet now and will surely move towards building more with the experience it has now, so Pakistan will surely come out as more self sufficient and powerful in the coming years.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >