سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر فردجرم عائد

پی ایس او غیرقانونی تقرری کيس: احتساب عدالت کراچی نے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوردیگرملزمان پرفردِجرم عائد کردی۔

بدھ کوکراچی کی احتساب عدالت ميں پی ایس او میں غیرقانونی تقرریوں سے متعلق کيس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ ملزمان کے انکار پر تفتیشی افسر اور گواہوں کو نوٹسز جاری کردئیے گئے۔

ملزمان میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ یعقوب ستار، ارشد مرزااورعمران الحق شامل ہیں۔عدالت نے27اگست کو سماعت پر گواہان کو طلب کرلیا ہے۔

نیب نےعدالت کو بتایا کہ شاہدخاقان عباسی نےایم ڈی پی ایس اوعمران الحق کی تقرری غیرقانونی طورپرکی۔ شاہدخاقان عباسی نے تقرری بطور وزیرپٹرولیم کی حیثیت سےکی تھی،ملزمان پرقومی خزانےکو138ملینر روپے سےزائد کا نقصان پہنچانےکا الزام ہے۔

اس کیس میں سابق سیکریٹری پٹرولیم ارشد مرزا، سابق ایم ڈی پی ایس اوشیخ عمران الحق اورچیف فنانس افسریعقوب ستارشامل ہیں۔

  • شاہد خاقان عباسی نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اربوں روپے کا الزام نہیں لگایا، نیب نے اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیب سے سوال ہے کہ ہمارے اختیارات کیا تھے؟ پی ایس او کے ایم ڈی کی تعیناتی کا کیس غلط ہے، ایم ڈی نے ملک کی تاریخ میں پی ایس او کو سب سے زیادہ فائدہ دیا۔

    رہنما مسلم لیگ نون نے کہا کہ نیب سیاسی طور پر لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج کشمیریوں کا دن ہے ملک متحد ہونا چاہیے، پاکستان کے عوام تو متحد ہیں لیکن حکومت نہیں۔

    نون لیگی رہنما نے مزید کہا کہ نیب کا حال یہ ہے کہ 2 سال میں صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >