پاکستان سفارتی تنہائی سے نکل آیا، اب بھارت سفارتی تنہائی کا شکار ہے، کامران خان

پاکستان سفارتی تنہائی سے نکل آیا، اب بھارت سفارتی تنہائی کا شکار، کامران خان

عمران حکومت کی 2 سالہ کارکردگی، پاکستان سفارتی تنہائی سے نکل آیا، بھارت سفارتی تنہائی کا شکار، کامران خان

پاکستان کے نامور صحافی کامران خان کا اپنے پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں وزیراعظم عمران خان کی حکومتی پالیسیوں کا کریڈٹ عمران خان کو دیتے ہوئے اپنے تجزیہ میں کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت سفارتی سطح پر حاصل کی گئی کامیابیوں پر کریڈٹ کی مستحق ہے، عمران خان کی حکومت نے 2 سال سے سفارتی تنہائی کے شکار پاکستان کو امریکہ یورپ اور مشرق وسطیٰ میں وہ مقام دلا دیا ہے جو پہلے سے تھا۔

کامران خان کا  کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث پاکستان تو سفارتی تنہائی سے نکل آیا ہے لیکن بھارت اس وقت سفارتی تنہائی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے، پاکستان نے پچھلے دو سال میں سفارتی سطح پر مشرق وسطیٰ خاص کر عرب امارات کے ساتھ نواز شریف کے دور میں منجمد ہوئے تعلقات بحال کیے ہیں، عمران خان کی پالیسیوں کی بدولت متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات بحال ہونے پر متحدہ عرب امارات پاکستان کے ساتھ ایک برادر اسلامی ملک بن کر سامنے آ رہا ہے۔

انہوں نے اپنے تجزیے میں افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا افغان امن عمل میں بہت ہی اہم کردار رہا ہے، جس کو تمام عالمی طاقتیں اور لیڈر تسلیم کر رہے ہیں پھر چاہے وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہو یا اسرائیل کے وزیراعظم ولادیمیر پوٹن ہوں، اس پوری کیفیت کے دوران پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت کو منوایا ہے اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں بھی پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ ان شاء اللہ آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بھی نکل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ تب سے کہتے آرہے ہیں کہ ان کی اولین ترجیح خارجہ امور کو بہتر بنانا ہے، پاکستان کو وہ مقام دلانا ہے جس کا وہ حقدار ہے، کامران خان نے کہا کہ اس حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پاکستان کے خارجہ تعلقات یقیناً بہت سنگین تھے۔ جس کا ذکر میں اپنے پروگرام میں بارہا کر چکا ہوں۔

کامران خان نے سابقہ حکومت کی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار  اس وجہ سے ہوا تھا کیوں کہ نواز شریف کے دور حکومت میں ملک کا کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا جو بیرون ملک کے دورے کر کے پاکستان کے تعلقات کو مضبوط بناتا، لیکن اس کے برعکس چار سال میں نواز شریف نے ملک کا کوئی وزیر خارجہ نہیں لگایا، جس کا نقصان پاکستان کو سفارتی تنہائی کے طور پر اٹھانا پڑا۔

کامران خان نے اپنے پروگرام میں مزید کہا کہ اب بھارت اسی سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے جس سفارتی تنہائی کا شکار کبھی پاکستان تھا، بھارت کے لداخ کے مقام پر چین کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد چین کے ساتھ تعلقات جنگی صورتحال اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ بھی گرمجوشی کے تعلقات اب سرد ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

  • Today shah mehmood Qureshi said that saudia asked us to don’t go Malaysia as it’s prove that we still need to work on foreigner relation with other countries saudia will betray us
    as saudia only think about own region we need to make sure that other countries also support us and I think before making Muslim block we should make China block it will further paved the way for Kashmir fight

  • Kamran Khan thanks again for your patriotic stand when most of our electronic & print media somehow seems to spreading the narratives of our enemy.
    Your optimistic analysis always inspire us. Wish you all the success.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >