عمران خان کی محنت رنگ لے آئی،بین الاقوامی میڈیا کی کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت

عمران خان کی محنت رنگ لے آئی،بین الاقوامی میڈیا کی کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت

وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کا سفیر بننے کا وعدہ پورا کردکھایا، کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے ایک سال مکمل ہونے پر جہاں پاکستان میں یوم استحصال منایا گیا وہیں بین الاقوامی میڈیا نے بھی کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور بربریت کو اجاگر کیا۔

بین الاقوامی میڈیا پر نہ صرف کشمیر پر بھارت کے غیر آئینی تسلط کی مذمت کی گئی بلکہ اپنی خبروں کا حصہ بھی بنایا گیا۔

ڈی ڈبلیو پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کرفیو کا ایک سال مکمل ہونے پر رپورٹ نشر کی گئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح بھارت نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کیا۔ رپورٹ میں نہ صرف گزشتہ ایک سال میں کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنانے کے مودی کے ظالمانہ رویئے کی عکاسی کی گئی بلکہ ماضی سے اب تک کے معاہدے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کیا گیا اور بتایا گیا کہ کس طرح کشمیری ان تمام مظالم کے باوجود آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں

ڈی ڈبلیو نے گزشتہ روز ہی مودی کے ایک اور گھناونے اقدام کو اجاگر کیا کہ مودی نے مسجد کو مسمار کر کے ایودھیا میں متنازع رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔

پریس ٹی وی نے بھی آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ہیڈ لائن لگائی کہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور خطے کی خودمختاری ختم کرنے کی برسی منائی جارہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاک ڈاون کے باوجود کشمیر میں کرفیو لگادیا گیا ہے۔

اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے باربار اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنےپر اب دنیا کہ نظر کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پر ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یوم استحصال کی تقریب میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ میں نے جرمن چانسلر اینجلا مرکل سمیت دنیا کے تمام بڑے لیڈرز سے مسئلہ کشمیر سے متعلق بات کی، دنیا بھر کے لیڈرز کو مسئلہ کشمیر سے متعلق سمجھایا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی اخبار اس سے پہلے کشمیر سے متعلق میرا مضمون ہی نہیں چھاپتا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرنے کا نقشہ بھارتی تکبر تھا، کئی طاقتور قومیں تکبر کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >