قومی اقتصادی کونسل نے 6.8 ارب ڈالر کے ایم ایل ون منصوبے کی منظوری دے دی

قومی اقتصادی کونسل (ایکنک اجلاس) میں پاکستان ریلوے کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون کی منظوری دے دی گئی، ایکنک کا اجلاس وزیر اعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایکنک نے پاکستان ریلوے کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون کی منظوری دے دی۔ اس منصوبے پر 6 ارب 80 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ اور سی پیک کی ویب سائٹ پر جاری کردہ معلومات کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کے تحت ریلوے کا 1872 کلومیٹر ٹریک اپ گریڈ کیا جائے گا۔ ریلوے کے ٹریک کو جلد از جلد اپ گریڈ کرنے کا کام تین مرحلوں میں کیا جائے گا جس کے بعد مسافر ٹرینوں کی رفتار 65 اور 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائے گی۔

جبکہ مسافر ٹرینوں کی تعداد 34 ٹرینوں سے بڑھ کر 137 اور پھر 171 تک پہنچ جائے گی۔ اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ ریلوے کی مال بردار گاڑیاں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی اور منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے پراجیکٹ اسٹئیرنگ کمیٹی بنائی جائے گی۔

فریٹ ٹرینوں کے لوڈ میں 1000 ہزار ٹن اضافے سے وزن کی کپیسٹی 24 سے بڑھ کر 3400 ٹن ہوجائےگی جب کہ حویلیاں کے قریب جدید خصوصیات کی حامل ڈرائی پورٹ تعمیر ہوگی۔

اس حوالے سے چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ایکنک نے ریلوے کا منصوبہ ایم ایل ون منظور کرلیا، پشاور سے کراچی ایم ایل ون منصوبے پر 6.8 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی جب کہ منصوبے کے تحت حویلیاں ڈرائی پورٹ اور والٹن اکیڈمی کی اپ گریڈیشن بھی ہوگی۔

جبکہ وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی ٹویٹ کیا ہے اور کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلوے منصوبے کی منظوری دی گئی۔

ایم ایل ون منصوبہ 6.8 ارب ڈالر کی لاگت سے 9 سال کی مدت میں 2030 میں مکمل ہوگا۔ 2030 میں مکمل ہونے والے ایم ایل ون منصوبے پر 90 فیصد پاکستانی اور 10 فیصد چینی ماہرین ولیبر کام کرے گی جب کہ منصوبے پر ایک سے 2 لاکھ مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

منصوبے کےتحت 174 کلومیٹر ریلوے ٹریک پشاور سے نوشہرہ اور راولپنڈی پہنچے گا، راولپنڈی سے لالہ موسی کا 105 کلومیٹر اور خانیوال سے پنڈورا کا 52 کلومیٹر طویل ڈبل ٹریک بنے گا جب کہ لاہور سے لالہ موسی کا 132کلومیٹر، لاہور سے ملتان 339کلومیٹر کا ڈبل ٹریک بھی مکمل کیاجائےگا۔

تفصیلات کے مطابق نواب شاہ سے 183کلومیٹر ٹریک روہڑی سے ملائے گا اور حیدرآباد سے کیماڑی کا 182 کلومیٹر کا ٹریک بنایا جائے گا جب کہ منصوبے کے تحت حیدرآباد ملتان کے درمیان طویل ترین 749 کلومیٹر کا ٹریک بھی ڈبل اور اپ گریڈ ہوگا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >